تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 602 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 602

تاریخ احمدیت 602 جلد ۲۰ پھر خدا جزائے خیر دے مکر می شیخ بشیر احمد صاحب حج ہائی کورٹ کو کہ انہوں نے نہایت مبارک ساعت میں اور نہایت مؤثر الفاظ میں حضور کی صحت کے لئے اجتماعی دعا کرنے کے لئے تحریک کی۔جب حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کی اقتدا ہا میں دعا ہوئی۔تو ہر آنکھ پُر نم تھی۔اور دعا کرنے والوں کی آہ بکا کا یہ عالم تھا کہ دلدوز چیخوں کی آواز میں دور دور تک جاتی تھیں۔تیسرے دن کے اجلاس اول میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ نے پہلی دفعہ تقریر فرمائی موضوع ” ذکر حبیب تھا۔تحریر کے تو آپ بادشاہ ہیں۔لیکن تقریر نے بھی وہ لطف دیا۔کہ لفظ لفظ پر حاضرین سر دھنتے تھے۔آپ نے ایسے دلکش اور پُر کیف واقعات بیان کئے کہ دل کہتا تھا۔کہ واقعی ذکر حبیب کم نہیں وصل حبیب سے۔تیسرے دن حضرت اقدس وقت پر تشریف لائے۔ضعف و نقاہت کا وہی عالم تھا۔حاضرین کے دل بھرے ہوئے تھے تقریر پھر لکھی ہوئی تھی۔موضوع وہی تھا کہ خدا کے دین کو دنیا کے کناروں تک پہنچا ؤ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے دین کا جھنڈا ساری دنیا میں بلند کر و۔تقریر کے بعد مختصر لیکن پر درد دعا ہوئی۔میرا احساس ہے کہ حضور کی صحت کی کمزوری بہت تشویش کا موجب ہے۔جماعت کے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے آگے جھک جائے اور اس سے حضور کی صحت عاجل و کامل کے لئے انتہائی درد و الحاج سے دعائیں کرے اور کرتا چلا جائے یہاں تک کہ ع اجابت از در حق بهر استقبال می آید اس وقت کہ حضور بیمار ہیں۔حضور کی بھر پور زندگی کے بڑے بڑے واقعات یاد آتے ہیں تو دل غم سے بھر جاتا ہے۔حضور کی عمر 19 سال کی تھی جب آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نعش مبارک کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ عہد کیا تھا۔کہ اگر ساری جماعت اور سب لوگ حضور کو چھوڑ جائیں تب بھی میں وفاداری کے ساتھ حضور کے مشن کی اشاعت کرتا چلا جاؤ نگا پھر ۲۵ سال کی عمر میں خلافت کا بارگراں آپ کے کندھوں پر رکھا گیا۔جماعت کے ا کا بر جماعت اور مرکز سے علیحدہ ہو گئے خزانے میں چند آ نے رہ گئے لیکن اس اولوالعزم انسان کو ذرہ بھر گھبراہٹ نہ ہوئی۔بڑے بڑے فتنے اٹھے۔لیکن اس خدا کے شیر کے پائے استقلال متزلزل نہ ہوئے۔جلسوں میں مسلسل چھ چھ گھنٹے بڑے بڑے علمی مسائل پر وہ وہ نکات بیان کئے کہ اپنے تو خیر۔غیر بھی عش عش کر اٹھے۔قرآن کریم کے علوم کے دریا بہا دئے۔