تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 601 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 601

تاریخ احمدیت 601 جلد ۲۰ تعجب نہیں کہ کئی سال میں وہ اس سے بھی زیادہ ہو جائے۔مگر دنیا کی آبادی خواہ کتنی بڑھ جائے۔اللہ تعالے کا فیصلہ یہی ہے کہ وہ احمدیت کو ترقی دے گا اور اسے بڑھائے گا۔یہاں تک کہ ساری دنیا میں احمدیت پھیل جائے گی۔بشرطیکہ جماعت اپنی تبلیغی سرگرمیاں ہندوستان میں بھی اور یورپ میں بھی جاری رکھے اور وکالت تبشیر اور اصلاح وارشاد کے محکموں کے ساتھ پورا تعاون کرے۔اس ولولہ انگیز خطاب کے بعد حضور نے ایک پُرسوز دعا کرائی جس کے بعد احباب جماعت تک یہ خصوصی پیغام پہنچانے کی ہدایت فرمائی کہ ” دوستوں کو چاہیئے کہ وہ کثرت کے ساتھ الفضل کا مطالعہ کیا کریں۔“ جلسہ سے متعلق ایک مخلص دعاؤں کے اس تاریخی جلسہ کی نسبت لا ہور کے ایک مخلص احمدی جناب عبدالجلیل صاحب عشرت (بی اے آنرز ) وو ۳۷ احمدی کے تاثرات ( برادر مولانا عبدالمجید سالک مرحوم ) نے حسب ذیل وو تاثرات قلمبند کئے۔جلسہ کے شروع ہونے سے ایک دن پہلے جب ہم ربوہ پہنچے تو ایک ہلکا سا احساس ہوا کہ شاید جلسہ کی تاریخوں کے التواء کی وجہ سے اس دفعہ شامل ہونے والوں کی تعداد کم ہو لیکن جلسہ کے پہلے اور پھر دوسرے دن دیکھتے ہی دیکھتے خدا کے نیک بندے جوق در جوق گذشتہ سالوں کی طرح آ پہنچے۔اللهم زدفرد ۲۲ / جنوری کو جلسہ کے افتتاح سے پہلے ہزاروں احباب اپنے محبوب آقا کی زیارت کے لئے چشم براہ تھے حضور تشریف لائے لیکن حضور کی نقاہت اور ضعف کو دیکھ کر عشاق کی آنکھیں پرنم اور دل غمزدہ ہو گئے حضور نے زندگی بھر میں پہلی دفعہ لکھی ہوئی افتتاحی تقریر پڑھی حضور کی آواز میں رقت تھی۔حاضرین جلسہ بھی زار و قطار رو رہے تھے حضور کی تقریر کا موضوع وہی تھا جو ہمیشہ حضور کی زندگی کا نصب العین رہا ہے یعنی خدا تعالیٰ کے نام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو دنیا کے کونے کونے میں جلد از جلد پہنچانے کا عزم بالخیر۔اللہ اللہ جسمانی کمزوری کا یہ حال اور عزم اتنا بلند ! ! دوسرے دن حضور طبی مشورہ کے مطابق جلسہ میں تشریف نہ لائے۔یہ بھی حضور کی زندگی میں پہلا موقعہ تھا۔عشاق تڑپ رہے تھے برادرم ثاقب زیروی نے حضور کی صحت کے متعلق اشعار سوز میں ڈوبی ہوئی آواز میں سنائے انہوں نے تڑپا دیا۔