تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 594
تاریخ احمدیت 594 جلد ۲۰ اس کے علاوہ بھی کئی مواقع ایسے میسر آئے کہ میں اپنے فریضہ تبلیغ کو صحیح طور پر سرانجام دینے اور ایسے مواقع حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔چنانچہ برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے ایک نمائندہ نے مجھ سے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں دریافت کیا کہ کیا ایک مبلغ ہونے کے لحاظ سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ٹانگانیکا میں برطانوی حکومت کے بعد اسلام زیادہ ترقی کرے گا۔میں نے کہا۔برطانوی راج میں جب کہ نو آبادیاتی حکومتیں کھلے بندوں عیسائیت کی مدد کر رہی ہیں۔اسلام میں ایک کے مقابل دس آ دمی شامل ہور ہے ہیں۔تو جب یہ حکومتیں اور ان کی واضح مددختم ہو جائیگی۔تو یقیناً اسلام انتہائی تیزی سے ترقی کرے گا۔ٹیونس جاتے ہوئے راستے میں میں نے تین سیاسی لیڈروں کو سواحیلی ترجمہ قرآن کے نسخے پیش کئے ان میں دو ٹا نگانیکا کے تھے اور ایک زنجبار کا۔مجھے راستے میں دیکھ کر بہت تعجب اور افسوس ہوا۔کہ ٹانگانیکا اور زنجبار کے مسلمان دوست ایسا گوشت استعمال کر رہے ہیں جو میچ طور پر ذبح نہیں کیا گیا۔یہ وہی گوشت تھا جو بچھپیں یورپین ممالک میں اور ہوائی جہاز میں مہیا کیا جاتا تھا۔جب میں نے ان کو اس امر کے متعلق بتلایا تو انہوں نے اس کی کچھ بھی پرواہ نہ کی۔میں نے اس عرصہ میں سبزیوں پر ہی اکتفا کیا۔ایک اور اعزاز : جولائی کے آخر میں شیخ امری عبیدی کو ایک اور اعزاز ملا اور وہ یہ کہ میئر آف دار السلام کے ممتاز عہدے پر فائز ہونے کے بعد آپ مغربی صوبے کے ضلع کیگا ما کیطرف سے ٹانگا نیکا کونسل کے بلا مقابلہ رکن منتخب ہو گئے۔۲۹