تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 593 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 593

تاریخ احمدیت 593 جلد ۲۰ گو بعض لوگ اعتراضات بھی کرتے ہیں چنانچہ مس مرجوالی برہام نے جو یونائیٹڈ کنگڈم میں ایک یو نیورسٹی کی پروفیسر ہیں مجھے یہ کہا کہ یہ نا مناسب ہے کہ ایک دینی ادارہ اور گروہ کا امیر میئر ہو کیونکہ اس میں تعصب کی جھلک ہو گی لیکن میرے اس جواب پر وہ خاموش ہو گئی کہ اگر یہ یوں ہی ہوتا تو کونسلرز کی اکثریت میرے حق میں ووٹ نہ دیتی۔حالانکہ ان میں مسلمان ہندو اور عیسائی سب موجود تھے۔میں نے اس سے مذہب کے متعلق بھی بات چیت کی اور بتایا کہ عیسائیت افریقہ میں نا کام ہو رہی ہے۔میں نے اس ا سے یہ بھی کہا کہ برطانیہ کی نو آبادیاتی پالیسی مناسب نہیں ہے۔کیونکہ اس ذریعہ سے وہ لوگوں کی مختلف جماعتوں میں انتشار اور افتراق پیدا کر رہے ہی۔مس مرجوالی نے مجھ سے دریافت کیا کہ آیا میں نے قاہرہ میں تعلیم حاصل کی ہے ( بعد میں ایک امریکن اخبار نویس نے بھی مجھ سے ایسا ہی سوال کیا) میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ سوال انہوں نے بعض سیاسی مصلحتوں کی بناء پر مجھ سے کیا تھا لیکن میں نے انہیں بتایا کہ میں نے پہلے تو مقامی طور پر تعلیم وپر حاصل کی تھی اور بعد میں احمدیت کے مرکز پاکستان گیا۔میں نے وہاں احمد یہ ادارہ جات سے تعلیم حاصل کی۔میرے میئر منتخب ہونے سے احمدیت کے مخالفوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے عبدالکریم جی جیسے انسان بھی دوستی پر آمادہ نظر آ رہے ہیں۔جو اپنے میئر ہونے کے زمانہ میں جماعت احمدیہ کو دار السلام میں مسجد بنانے کی اجازت نہ دیئے جانے کی انتہائی کوشش میں مصروف رہے۔۲۲/۱/۶۰ کو میں ٹیونس میں آل افریقن پیپلز کانفرنس میں شامل ہونے کے لئے دار السلام سے ٹیونس گیا۔اس میٹنگ میں تمام افریقہ کے نمائندگان شامل تھے۔میں نے ٹیونس میں مشن قائم کرنے کی بھی کوشش کی اور اس سلسلہ میں صد رحبیب بورقیہ کو ملنے کی کوشش کی۔لیکن سیاسی مصروفیات کی وجہ سے مجھے افسوس ہے یہ موقع میسر نہ آیا۔البتہ مجھے یہ خوشی ہے کہ مجھے وہاں بھی تبلیغ کا موقعہ میسر آیا۔وہاں مجالس میں عموماً عام شربتوں کے علاوہ شراب کے جام بھی گردش میں تھے۔اس پر میں نے ٹیونس کے بعض آدمیوں کو قرآن کریم کی ان آیات کی طرف توجہ منعطف کرائی جن میں شراب کی ممانعت کا ذکر ہے تو وہ بہت شرمندہ ہوئے اور حسن اتفاق سے اس کے بعد جس کا نفرنس میں بھی میں نے شمولیت کی اس میں شراب نہ رکھی گئی۔