تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 44
تاریخ احمدیت 44 جلد ۲۰ علاوہ ازیں ایک گیسٹ روم بھی تعمیر کیا گیا۔عمارت کی بنیاد یں اتنی مضبوط اور پختہ رکھی گئیں کہ بعد میں حسب ضرورت بالائی منزل تعمیر کر کے اس میں بآسانی توسیع کی جاسکے۔اصل عمارت سے ملحق اس کے جنوبی جانب بعض اور کمرے بھی زیر تربیت معلمین کی ٹرینگ کے لئے کلاسز منعقد کرنے اور ان کی رہائش کے لئے تعمیر کئے گئے۔ابتدائی مرحلہ میں اس مختصر مدرسہ اور ہوٹل میں دس معلمین کی ٹریننگ اور قیام کا انتظام تھا۔تحریک وقف جدید اب تک ہندوؤں میں اشاعت دین ایک ضروری سرکار معلمین کے نام کے لئے سر بکف تھی مغرب اس نے اپنی توجہ عیسائیوں وو کی طرف بھی مبذول کر دی جو مسلمانوں کو ورغلانے اور مرتد کرنے میں پوری طاقت صرف کر رہے تھے۔اور جس کی وجہ سے پاکستان کے مذہبی حلقوں میں زبر دست تشویش اور اضطراب پھیل چکا ہے۔اس سلسلہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ناظم ارشاد وقف جدید کی طرف سے وقف جدید کے تمام معلمین کے نام ایک خصوصی سرکلر جاری کیا جس میں تحریر فرمایا : - یہ امر مزید فکر اور تکلیف کا موجب بنتا ہے کہ بعض تخمینوں کے مطابق آج کل عیسائی پاکستان میں اس سے زیادہ مسلمانوں کو عیسائی بنا رہے ہیں جتنا کہ ہم عیسائیوں یا ہندوؤں وغیرہ کو اپنے ملک میں دینِ حق کی آغوش میں لانے میں کامیاب ہورہے ہیں۔یہ صرف افسوس کا مقام ہی نہیں بلکہ غیرت کا مقام بھی ہے۔آپ جو کہ مسیح محمدی کے غلام ہیں اور ایک زندہ مذہب کو ماننے والے ہیں آپ پر یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ عیسائی کارکنوں سے پیچھے رہ جائیں۔چنانچہ آج کے بعد اپنی غفلتوں کا ازالہ عملی نتیجہ ظاہر کر کے کیجئے اور خاص طور پر عیسائیوں کی طرف توجہ دیجئے۔آپ کو چاہئے کہ اس سال کم سے کم اتنے تو عیسائیوں کو مسلمان بنا ئیں جتنے مسلمانوں کو عیسائی سالانہ عیسائی بنا رہے ہیں۔اور یہ تعداد آٹھ ہزار سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔اسی ضمن میں جن اعداد و شمار کی ضرورت ہے ان کی تفصیل صفحه ۴ پر ملاحظہ فرما کر مطلوبہ کوائف سے جلد از جلد مرکز کو آگاہ کریں۔زیادہ سے زیادہ پانچ دن کے اندر یہ تمام معلومات حاصل کر کے دفتر کو اپنی تفصیلی رپورٹ بھجوا کر ممنون فرمائیں۔جزاکم اللہ احسن الجزاء والسلام خاکسار مرزا طاہر احمد ناظم ارشاد وقف جدید