تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 43
تاریخ احمدیت 43 جلد ۲۰ انجمن احمد یہ پاکستان کے صدر جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے آنے والوں کا استقبال کیا۔چار بجے سہ پہر تک جب سب مہمان نئے دفتر کے احاطہ میں جمع ہو گئے تو محترم مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ صدر نگران بورڈ نے عمارت کے صدر دروازہ کے سامنے کھڑے ہو کر اجتماعی دعا کرائی۔دعا سے فارغ ہونے کے بعد حضرت مرزا عبدالحق صاحب نے زیر لب دعائیں کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے صدر دروازے کا تالا کھول کر افتتاح فرمایا۔اس تقریب پر دو بکرے بطور صدقہ ذبح کئے گئے۔اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ نئی عمارت کا افتتاح عمل میں آچکا تو حضرت مرزا عبدالحق صاحب اور جملہ مدعوین کرام جن میں رفقاء مسیح موعود ، نگران بورڈ کے ممبران ، ناظر اور وکلاء حضرات خصوصی طور پر شامل تھے۔محترم صدر صاحب و ناظم ارشاد صاحب وقف جدید نے مہمانوں کو عمارت کے مختلف ونگ اور ان کے کمرے دکھلائے اور ان میں مختلف شعبوں کی ترتیب و تعیین پر روشنی ڈالی۔عمارت کا ڈیزائن ، نقشہ اور ضرورت کے مطابق شعبہ وار کمروں کی ترتیب کے معائنہ سے فارغ ہونے کے بعد محترم صدر صاحب نگران بورڈ ، حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ناظم ارشاد وقف ید کے کمرہ میں تشریف لے گئے اور اپنے قلم سے امراء صاحبان اضلاع اور دیگر احباب جماعت کے نام وقف جدید کے لئے فراہمی چندہ کی ایک اپیل رقم فرمائی جس میں لکھا کہ :- یہ دفتر بہت سی مشکلات میں سے گزرتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے چند ماہ پیشتر اس دفتر کے باہر امرائے ضلع و دیگر احباب کرام کا اجلاس کیا گیا تھا۔اس وقت صرف دیوار میں ہی بنی ہوئی تھیں اور چھتوں کے لئے کوئی انتظام نہ تھا اتنے تھوڑے عرصہ میں ساری بلڈنگ پر چھتیں ڈال لینا انجمن وقف جدید کے ذمہ دار کارکنان کی بہت ہمت ہے۔“۔اس طرح اپیل کے ذریعہ افتتاح کے ساتھ ہی باقاعدہ دفتری کام کا بھی آغاز ہو گیا۔ازاں بعد جملہ مہمانوں کی مٹھائی وغیرہ سے تواضع کی گئی۔اختتام پر صدر نگران بورڈ مکرم مرزا عبدالحق صاحب نے دوبارہ اجتماعی دعا کرائی۔دفتر وقف جدید کی یہ شاندار عمارت گولبازار ربوہ کے عقب میں دفتر خدام الاحمدیہ مرکز یہ سے ملحق پلاٹ میں تعمیر کی گئی۔صدر صاحب مجلس وقف جدید کے دفتر اور کمیٹی روم کے علاوہ عمارت کے دو ونگ تھے ایک شعبہ مال کے لئے اور ایک شعبہ ارشاد کے لئے۔ہر ونگ وسیع وعریض تین کمروں پر مشتمل تھا۔عمارتوں کے دونوں سروں پر دو بالائی کمرے بھی تعمیر کئے گئے۔ان میں سے ایک کمرہ لٹریچر کے سٹور کے طور پر اور دوسرا آفس ریکارڈ کی حفاظت کے لئے مخصوص کیا گیا۔