تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 581
تاریخ احمدیت 581 جلد ۲۰ خراج تحسین ادا کیا ہے“۔افریقہ آزاد ہو رہا ہے۔لہذا مغربی ممالک اب افریقیوں کے ساتھ رابطہ قائم رکھنے کے لئے مذہب کو سیاسی آلہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔اور افریقہ میں وسیع پیمانے پر عیسائیت کی تبلیغ کر کے افریقیوں کے ساتھ روحانی اور نظریاتی رشتے استوار کر رہے ہیں۔چنانچہ اس وقت پورے براعظم افریقہ میں عیسائی مشنری پھیلے ہوئے ہیں۔اور عیسائیت کی تبلیغ پورے زور شور کے ساتھ جاری ہے۔اندریں حالات اس وقت افریقہ میں تبلیغ اسلام کے لئے ایک وسیع میدان موجود ہے۔محترم حفیظ ملک صاحب نے اسلامیان پاکستان کی توجہ اسی طرف مبذول کرائی ہے اور اس ذیل میں جماعت اسلامی کو خصوصی دعوت دی ہے۔کہ اس کے مبلغین افریقہ میں جا کر اسلام کی تبلیغ کریں۔تو انہیں شاندار کامیابی حاصل ہے۔ہماری آنکھیں تلاش کرتی رہیں کہ محترم حفیظ ملک کے مذکورہ مراسلہ میں اثنا عشری مبلغین کی تبلیغی خدمات کا بھی کہیں ضرور ذکر آئیگا۔لیکن ہمیں یہ دیکھ کر بے انتہا مایوسی ہوئی۔کہ اس سلسلہ میں اثنا عشری مبلغین کا کہیں نام تک نہیں آیا۔و سکتی ہماری جماعت کے مایہ ناز مبلغ مولانا خواجہ محمد لطیف صاحب قبلہ انصاری گزشتہ دو سال سے افریقہ میں مقیم ہیں اور موصوف نے رضا کار میں متعدد اقساط میں افریقہ میں مذہب اثنا عشری کا مقام کے عنوان سے افریقہ کے خوجہ اثنا عشری شیعوں کے حالات پر بالتفصیل روشنی ڈالی ہے۔محترم خواجہ صاحب کے ان مراسلات سے تو ہم نے یہ اندازہ لگایا تھا۔کہ افریقہ میں شیعہ ہر لحاظ سے صف اول میں شمار ہوتے ہیں۔کیونکہ وہ پورے ملک کی صنعت و تجارت پر چھائے ہوئے ہیں۔ہر مقام پر ان کی مساجد اور امام باڑے موجود ہیں۔اور انہوں نے ہر جگہ تبلیغ دین کیلئے علماء کا انتظام کر رکھا ہے با وجو د صاحبان ثروت ہونے کے ان کا دینی شغف قابل داد ہے۔چنانچہ خود خواجہ صاحب نے یہ تحریر فرمایا تھا کہ افریقہ میں یہ مشہور ہے کہ افریقہ میں اسلام تو عرب لائے تھے۔مگر اس ملک میں اسلام کو قائم رکھنے والے خوجہ اثنا عشری حضرات ہیں۔افریقہ میں بسنے والے خوجہ اثنا عشری حضرات لاکھوں روپے سالانہ اپنے عبادت خانوں، مساجد اور امام باڑوں پر خرچ کرتے ہیں۔پاک و بھارت سے بڑی بڑی تنخواہیں دے کر علماء کرام کو اپنے مذہبی مرکز میں تعینات کرتے ہیں۔چنانچہ اس وقت افریقہ کے تمام قابل ذکر شہروں میں شیعہ مبلغین موجود ہیں۔لیکن جب ہم اپنے ان مبلغین کی تبلیغی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں مایوسی کا سا منا کرنا پڑتا ہے اور