تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 580 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 580

تاریخ احمدیت 580 جلد ۲۰ کہ کیا جماعت احمدیہ کے سوا پاکستان میں اور کوئی مذہبی جماعت موجود نہیں جو افریقہ میں اسلام کی تبلیغ کے کام کو انجام دے سکے پاکستان میں جماعتِ اسلامی بہت ہی با اثر جماعت ہے۔مولانا مودودی کے سیاسی خیالات سے ہمیں بہت زیادہ اختلافات ہیں۔لیکن ہمیں اس بات کا پورا پورا یقین ہے کہ اگر وہ افریقہ میں مشنری کام کا بیڑہ اٹھائیں۔تو اس سے صرف اسلام کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے علاوہ انسانیت کی خدمت بھی ہو گی۔حقیقت یہ ہے کہ آج تک غیر ممالک میں جتنا بھی اسلامی مشنری کام ہوا ہے وہ علماء نے اپنی ذاتی حیثیت میں ادا کیا ہے اب ضرورت ہے کہ تبلیغی کام کو منظم کیا جائے۔اگر جماعت اسلامی سیاسی خواہشوں اور دفاتر کے خواب سے علیحدہ ہو کر افریقہ میں اسلامی تہذیب و تمدن پھیلانے کی کوشش کرے تو ہمیں توقع ہے کہ فروغ اسلام میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق بلی گراہم کے تمام ارادے نا کام ہو کر رہ جائینگے اسلئے کہ جماعت اسلامی میں جو علماء ممبر کی حیثیت سے شامل ہیں۔وہ بیچ معنوں میں اسلام کے عالم ہیں اور ان کے توسط سے جو اسلام پھیلے گا۔وہ افریقی صحیح لوگوں کو روحانیت کے سرچشموں سے فیضیاب کریگا۔دراصل یہ مسئلہ ایسا ہے کہ اس پر حکومتِ پاکستان کو تبلیغی کام کر نیوالی جماعتوں کی اعانت کرنی چاہیئے۔کیا ہم مولانا مودودی سے یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ افریقہ میں تبلیغی کام کا بیڑا اٹھا ئیں گے ؟ ہماری رائے میں تو ان سے بہتر انسان پاکستان میں اس کام کیلئے موجود نہیں۔“ ۱۴ ، اخبار رضا کار لاہور کا حقیقت افروز تبصرہ پاکستان کے مشہور شیعہ ہفت روزہ رضا کار نے نہ صرف اپنی یکم مئی ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں مندرجہ بالا مضمون شائع کیا بلکہ ۸ رمئی ۱۹۶۰ء کے پرچہ میں اس پر درج ذیل تبصرہ بھی سپر دا شاعت کیا :۔گزشتہ شمارہ میں ہم نے جناب حفیظ ملک صاحب نمائندہ روز نامہ ” نوائے وقت لا ہور مقیم واشنگٹن (امریکہ) کا ایک مراسلہ افریقہ میں تبلیغ اسلام“ کے عنوان سے نوائے وقت لاہور سے نقل کیا تھا۔محترم حفیظ ملک صاحب نے اپنے اس مراسلہ میں احمدی مبلغین اور عیسائی مشنریوں کی افریقہ میں تبلیغی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ہے۔اور اس امر پر روشنی ڈالی ہے کہ احمدی مبلغین کس طرح عیسائی مشنریوں کا سر توڑ مقابلہ کر کے لاکھوں افریقیوں کو احمدی بنا رہے ہیں اختلاف عقائد کے باوجود حفیظ ملک نے احمدی مبلغین کی تبلیغی کوششوں کو سراہا ہے۔اور انہیں