تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 582 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 582

تاریخ احمدیت 582 جلد ۲۰ جب ہم ان کا مقابلہ احمدی مبلغین سے کرتے ہیں۔تو ندامت سے ہمارا سر جھک جاتا ہے۔تبلیغی میدان میں عیسائی مبلغین کا مقابلہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔۔۔کیونکہ ان مبلغین کی پشت پر حکومتیں ہیں۔جو لاکھوں اور کروڑوں روپے سے ان کی امداد کر رہی ہیں۔لیکن احمدی مبلغین کی پشت پر نہ ہی کوئی حکومت ہے۔اور نہ ہی کوئی سرمایہ دار طبقہ۔ان کی پشت پر صرف ان کی جماعت ہے۔جو انہیں معمولی تنخواہیں دیتی ہے۔اور ایک محمد و دسرمایہ سے ان کی تبلیغی سرگرمیوں کو آگے بڑھاتی ہے۔ان حالات میں احمدی مبلغین کا عیسائی مبلغین سے مقابلہ کرنا اور اس مقابلہ میں ان سے بازی لے جانا یقیناً خراج تحسین کا مستحق ہے۔اور ہمارے مبلغین حضرات کے لئے تازیانہ عبرت ہے۔جن کو افریقہ میں ایک سرمایہ دار طبقہ کی سر پرستی حاصل ہے۔اور تبلیغ دین کے سلسلہ میں انہی ہر طرح کی سہولتیں میسر ہیں۔کاش ہمارے مبلغین حضرات بھی اپنے میں مشنری سپرٹ پیدا کرتے۔یعنی آرام و آرائش کی زندگی کو خیر باد کہتے اور محنت و مشقت اپنا نصب العین بناتے۔تو آج ان کا ذکر بھی تبلیغی مشن کے سلسلہ میں سر فہرست ہوتا۔ہمیں اس تلخ نوائی سے معاف رکھنا چاہیئے ہمارے مبلغین آرام و آسائش کی زندگی گزارنے کے عادی بن چکے ہیں۔کیونکہ ہمارے دینی مدارس کا ماحول ہی کچھ ایسا ہے۔کہ انہیں آرام طلب بنا دیتا ہے۔اور ان میں مشنری سپرٹ یدا ہی نہیں ہوتی ہمارے چھوٹے دینی مدارس سے لے کر نجف اشرف کے دینی مدارس تک کی یہ حالت ہے کہ وہاں کوئی باقاعدگی اور نظام نہیں جب طلباء ایسے ماحول میں پروان چڑھیں گے۔تو واضح ہے۔کہ وہ آرام و آسائش کے عادی ہی بنیں گے۔لیکن یہ امر طے شدہ ہے کہ ایک مبلغ اور مشنری اس وقت تک با احسن وجوہ خدمات انجام نہیں دے سکتا۔جب تک وہ محنت و مشقت کو اپنا نصب العین نہ بنائے۔اس سلسلہ میں اپنے مبلغین حضرات کی خدمت میں کچھ عرض کرنا ہے تو گستاخی لیکن ہم یہ عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔کہ ہمارے مبلغین نے مذہب کی تبلیغ بس یہی سمجھ رکھی ہے۔کہ اپنے مکان پر عزت اور آرام کم و بیش آسودگی کی زندگی بسر کریں۔کبھی کبھی نماز پڑھا دیا کریں کوئی مسئلہ پوچھے تو فتویٰ دے دیں اور کہیں سے دعوت آئے تو مجلس پڑھ آئیں۔“ حالانکہ مبلغین حضرات کو چاہیئے۔کہ وہ اپنے مقام معزز کو چھوڑ کر اٹھیں۔خدا کی دنیا اور خدا کے بندوں میں گھو میں پھریں۔ان سے ملیں جلیں۔افلاس۔جہالت۔تو ہم پرستی۔بیماری اور ظلم و نا انصافی کے درد ناک مناظر کو دیکھیں اور انہیں دور کرنے کے لئے