تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 462 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 462

تاریخ احمدیت 462 جلد ۲۰۔کے لہجہ میں بھی فرق نظر آتا ہو تو آگے نہیں پڑھتے تھے جب تک درست نہ کروالیں۔مجھے جب بھی یاد آتا ہے کہ کس توجہ اور محنت سے آپ نے مجھے قرآن مجید پڑھایا تو بے اختیار ان کے لئے دعا نکلتی ہے۔جتنا عرصہ میں نے مرحوم سے قرآن کریم پڑھا آپ نے توجہ سے پڑھایا جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ قرآن کریم صحیح پڑھنا مجھے آ گیا۔مجھے مرحوم کے خطبات سننے کا بھی بہت موقع ملا اور باوجود بچپن کا زمانہ ہونے کے آپ کے ارشادات کی طرف توجہ پیدا ہوتی تھی اور کبھی طبیعت اکتائی نہیں تھی۔میں کئی دفعہ دعا کے لئے بھی مرحوم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ہمیشہ شفقت سے پیش آئے اور دعا فرمانے کا وعدہ کرتے میرا بہت بچپن سے دعا پر ایمان ہے اور میرا قیاس ہے کہ اس میں بہت حد تک دخل مرحوم کی نصائح کا تھا کہ ہر موقع پر اللہ تعالی کی طرف رجوع لازمی ہے اور وہ اپنے بندوں کی دعاؤں کوسنتا اور پائیہ قبولیت بخشتا ہے۔حضرت چوہدری صاحب کالج میں بی اے تک پڑھے جس کے بعد ٹیریٹوریل میں بھرتی ہو کر لیفٹینٹ بنے۔آپ کی ملازمت کا آغاز پنچایت افسر کی حیثیت میں گورداسپور سے ہوا۔حضرت مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ امیر صوبائی پنجاب کا بیان ہے کم و بیش ایک دو ماہ خاکسار کے ساتھ رہے۔۔۔گورداسپور میں آپ سال دو سال رہے۔آپ اس وقت بھی ایک صالح نوجوان تھے۔احمدیت کے لئے نہایت غیرت مند اور بڑے فراخ دل اور فراخ حوصلہ تھے اور ہمدردی بھی ان میں بہت تھی۔“ غالباً ۱۹۲۵ء اور ۱۹۳۰ء کے دوران آپ رو پڑ ضلع انبالہ کی میونسپل کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر مقرر ہوئے اور تھوڑے ہی عرصہ میں ہر دلعزیز اور مقبول خاص و عام ہو گئے۔اور اپنے حسنِ اخلاق سے اپنوں اور بیگانوں کو والا وشیدا بنا لیا۔روپڑ کے بعد آپ کچھ عرصہ مظفر گڑھ میں پنچایت افسر رہے جہاں ان دنوں حضرت ڈاکٹر سید محمد اسماعیل صاحب بحیثیت سول سرجن طبی خدمات بجا لا رہے تھے۔یہیں آپ کو فتنہ مستریاں کی اخلاق سوز اور خلاف انسانیت شرارتوں کا علم ہوا جس پر آپ نے حضرت مصلح موعود کی خدمت اقدس میں ۹ ۱ اپریل ۱۹۳۰ء کو حسب ذیل اخلاص نامه ارسال