تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 461
تاریخ احمدیت 461 کو بھول گئے۔دونوں حضرات کو ہندوستان میں سرکار برطانیہ کی طرف سے خان صاحب کا خطاب ملا ہوا تھا۔احباب جماعت احمد یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے بزرگوں کی نیکیاں قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اخلاص و وفا کے وہی معیار قائم کرتے چلے جائیں جن کے نمونے ہمارے بزرگوں نے دکھائے۔(آمین ) ۱۴۵ ۲ - حضرت چوہدری عبد اللہ خاں صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی ( وفات ۱۳ / جون ۱۹۵۹ء) جلد ۲۰ حضرت چوہدری نصر اللہ خاں کے لخت جگر ، حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے چھوٹے بھائی، اخلاص و فدائیت کے پیکر، مثالی منتظم اور سلسلہ احمدیہ کے نڈر اور غیور خادم !! جن کی ساری عمر با وجود اعلیٰ سرکاری عہدوں پر ممتاز رہنے کے عملاً خدمت دین و انسانیت کے لئے وقف رہی۔السلام کے حضرت چوہدری عبداللہ خان صاحب سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیه ا پیدائشی رفیق تھے جو ۴ نومبر ۱۹۰۱ ء میں بمقام سیالکوٹ پیدا ہوئے۔بچپن میں قرآن مجید کی تعلیم حضرت حافظ مولوی محمد فیض الدین صاحب سیالکوٹی (امام بیت احمد یہ کبوتر انوالی) سے حاصل کی جنہوں نے ستمبر، اکتوبر ۱۹۰۴ء میں حضرت مسیح موعود کے تاریخی سفر سیالکوٹ کے دوران شرف بیعت حاصل کیا تھا۔انہی مبارک ایام میں حضرت چوہدری صاحب کی والدہ ماجدہ اور والد ماجد کو بھی احمدیت کی لازوال نعمت نصیب ہوئی۔حضرت چوہدری صاحب اپنے بزرگ استاد کا ذکر خیر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :- ۴۸ حضرت مولوی صاحب مرحوم کو۔میں نے پہلی دفعہ بیت احمدیہ (جو مسجد کبوتر انوالی کے نام سے مشہور تھی) سیالکوٹ میں دیکھا جبکہ مجھے آپ کی خدمت میں قرآن کریم پڑھنے کے لئے لے جایا گیا۔ہم چاروں بھائیوں اور ہمارے خالہ زاد بھائی چوہدری سلطان علی صاحب نے قرآن کریم حضرت مولوی صاحب مرحوم سے پڑھا۔قرآن کریم پڑھاتے وقت اس قدر خیال رکھتے تھے کہ زیر زبر کی غلطی کے علاوہ اگر تلفظ