تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 460
تاریخ احمدیت 460 کبھی کبھی مجھے کوئی لطیفہ یا مزاح کی بات بھی سنایا کرتے۔ایک دفعہ کہنے لگے کہ لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے فورڈ کار جارہی تھی اور ایک خچر بھی جا رہا تھا۔خچر نے فورڈ کا ر سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ فورڈ نے جواب دیا کہ میں کار ہوں۔مگر تم کون ہو۔خچر یہ سن کر کہنے لگا کہ اگر تم کار ہو تو پھر میں گھوڑا ہوں۔معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں فورڈ کار کی شہرت کوئی زیادہ اچھی نہ تھی۔محترم میاں محمد ابراہیم صاحب سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول و سابق مربی امریکہ نے ایک دفعہ ملاقات پر بتایا کہ جماعت کے ایک بزرگ وفات پاگئے۔میاں صاحب نے ان کے بارے میں اخبار الفضل میں ایک تعزیتی مضمون تحریر کیا۔یہ مضمون حضرت خان صاحب کو اس قدر پسند آیا کہ میاں صاحب سے مزاح کے رنگ میں فرمانے لگے کہ اگر آر میرے بارے میں بھی اتنا اعلیٰ مضمون لکھنے کا وعدہ کریں تو میں کل ہی مرنے کو تیار ہوں۔مضمون کی تعریف کرنے کا یہ ایک پیارا انداز تھا۔ایک دفعہ میں حضرت خان صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ان کی طبیعت بخار کی وجہ سے علیل تھی۔ممکن ہے کہ پیرانہ سالی کی وجہ سے کچھ دیگر عوارض بھی ہوں۔اتنے میں حضرت خان صاحب کے ماموں حضرت خانصاحب منشی برکت علی خان صاحب شملوی (رفیق حضرت مسیح موعود ) بھی تشریف لے آئے۔آپ عمر میں خان صاحب سے دو ایک سال چھوٹے تھے مگر ماموں ہونے کے ناطے رشتے میں بڑے تھے۔آپ بہت زندہ دل اور خوش باش بزرگ تھے۔دونوں بزرگوں کی آپس میں بہت بے تکلفی اور دوستی تھی۔کہنے لگے فرزند علی! تم کچھ فکر نہ کرو میں تمہیں خود اپنے کندھوں پر اٹھا کر سڑک کے اس پار لے جاؤں گا۔( یہ ساری گفتگو ہوئی تو پنجابی میں تھی مگر میں اردو میں تحریر کر رہا ہوں ) خان صاحب کی رہائش صدرانجمن احمدیہ کے کوارٹروں میں سڑک کے اس طرف تھی اور سڑک کے پار دوسری طرف بہشتی مقبرہ تھا۔اس مذاق پر دونوں بزرگ کھلکھلا کر ہنسنے لگ گئے اور خان صاحب بھی اپنی علالت جلد ۲۰