تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 443
تاریخ احمدیت 443 جلد ۲۰ اور ایران میں بھی آنریری طور پر بغرض تبلیغ تشریف لے گئے۔امرتسر کے تعیناتی سات سالہ عرصہ میں آپ سیکرٹری تبلیغ و تعلیم و تربیت رہے۔اس زمانہ میں امرتسر کے طبقہ امراء اور معززین کے علاوہ مولانا محمد علی صاحب جو ہر ، مولانا شوکت علی صاحب، گاندھی جی ، پنڈت موتی لال نہرو، مسٹر گو کھلے اور دیگر رہنماؤں سے آپ کی بالمشافہ مذہبی گفتگوئیں ہوئیں۔آپ بڑے بڑے سیاسی اور مذہبی جلسوں میں شرکت کرتے تھے۔مشہور اہل حدیث عالم مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سے کئی دفعہ آپ کے مقابلے ہوئے۔ایک موقع پر تو انہیں مجمع میں بالکل خاموش ہونا پڑا۔میں ایک بار ایک پنجابی مولوی صاحب نے اپنی تقریر میں سیدنا حضرت مسیح موعود کی شانِ مبارک میں نازیبا کلمات کہے اور آپ کی طرف خدائی کا دعویٰ منسوب کیا آپ نے ثبوت طلب کیا کہ کس کتاب میں لکھا ہے؟ مولوی صاحب نے کہا یہ ”مرزائی ہے اسے نکال دو۔چنانچہ لوگوں نے دھکے دے کر نکال دیا۔آپ کی پگڑی بھی اتر گئی۔اگلے روز مولوی صاحب کا پنجابی محلہ میں وعظ تھا۔آپ بھی وہاں پہنچ گئے اور سوال کیا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کہاں فرمایا ہے کہ ہم نے حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا؟ یہ سنتے ہی مولوی صاحب بھڑک اٹھے اور حکم دیا اسے مسجد سے باہر نکال دو۔چنانچہ لوگوں نے یہاں بھی آپ کو مسجد سے نکال کر دم لیا۔چند روز بعد یہی مولوی صاحب آپ کے سامنے سے گزرے تو آپ نے کھڑے ہو کر خوش آمدید کہا اور کرسی پیش کی آپ اس وقت سرکاری ڈیوٹی پر تھے۔مولوی صاحب کا رنگ فق ہو گیا کہ مبادا اپنے ماتحتوں کے ذریعہ میری پٹائی کرا دیں۔جھٹ خوشامدانہ لب ولہجہ میں کہنے لگے بابو صاحب میں آپ کی مومنانہ جرات کی داد دیتا ہوں۔آپ نے فرمایا سنت اللہ کے مطابق خدا کے بندوں کے ساتھ لوگ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں۔۲۸ ایک دفعہ آپ رخصت لے کر بعض احمدیوں کے ہمراہ علاقہ بیٹ میں تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے۔ایک پٹواری کی شرانگیزی سے مخالفین نے زدوکوب کیا لیکن آپ نے صبر سے کام لیا اور معینہ مدت پوری کر کے لوٹے۔بعد ازاں اس پٹواری کی تعیناتی آپ کے سسرال کے علاقہ میں ہوگئی تو وہاں کے احمدی زمینداروں نے اس سے انتقام لینے کا ارادہ کیا لیکن حضرت بابو صاحب نے نہ صرف یہ کہ اجازت نہ دی بلکہ سختی سے انہیں منع کر دیا اور ارشاد فرمایا یہ اس کی نادانی تھی میں نے اس کو معاف کر دیا ہے۔اس بات کا اس پر بہت اثر ہوا اور وہ سخت نادم ہوا۔قادیان دارالامان میں تعیناتی کے دوران اسٹنٹ سٹیشن ماسٹر پنڈت رگھبیر چند صاحب آپ کے اعلیٰ نمونہ سے متاثر ہوکر ( دین حق ) کے گرویدہ ہو گئے۔