تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 444
تاریخ احمدیت 444 جلد ۲۰ مہت پور مکیریاں (ضلع ہوشیار پور ) میں تحریک جدید کا تبلیغی مشن ابھی قائم نہیں ہوا تھا کہ آپ کی مساعی کے نتیجہ میں یہاں ایک مخلص جماعت کا قیام عمل میں آ گیا۔اسی طرح پیر محمد اقبال صاحب اسٹیشن ماسٹر اور ان کے خاندان کے بیس پچیس افراد بیک وقت داخل احمدیت ہو گئے ۲۹ ,, حضرت با بوصاحب میں زہد و ورع ، قناعت اور تعلق باللہ کے اوصاف بھی بہت نمایاں تھے۔بابو زہد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے اللهم احیـنـى مسكيـنــا وامتني مسكينـا واحشرني في زمرة المساكين۔یعنی اے میرے اللہ مجھے مسکین کی حیثیت سے زندہ رکھ، مسکین کی صورت میں ہی میری وفات ہو اور میرا حشر مسکینوں کے زمرہ میں کرنا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کا آپ کے قلب صافی پر ایسا گہرا اثر تھا کہ غریبانہ زندگی کے لئے دعائیں کرتے رہتے تھے۔چنانچہ آپ کی طرز بود و باش ہمیشہ فقیرانہ اور درویشانہ رہی۔آپ سچ سچ ” فقیر علی ہی تھے۔آپ کے فرزند میاں بشیر احمد صاحب کا بیان ہے کہ حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب ضروریات سلسلہ کی تحریک کے لئے ایک دفعہ امرتسر میں تشریف لائے۔آپ ان دنوں تہی دست تھے۔آپ ان کو لے کر گھر پہنچے اور آٹے والا ٹین لا کر دکھایا کہ جس میں صرف آدھ سیر آٹا تھا اور حلفاً عرض کیا کہ میرے پاس یہی کچھ ہے۔حضرت ممدوح نے اپنے کپڑے میں وہی انڈیل کر قبول فرمالیا اور یہ رات ان کے اہلِ خانہ کو بغیر کھانے کے بسر کرنا پڑی۔حضرت بابو صاحب تحریک جدید کی پانچ ہزاری فوج کے مجاہدین میں شامل تھے۔مولانا ابوالعطاء صاحب نے آپ کی وفات کے بعد اپنے ایک نوٹ میں تحریر فرمایا: - ہجرت کے آغاز سے ہی محترم بابو فقیر علی صاحب احمد نگر میں ہمارے ساتھ رہے ہیں۔وہ ایک نہایت پر جوش ( رفیق خاص ) اور مرد مومن ۳۱ تھے۔آخری دم تک تحریر و تقریر کے ذریعہ خدمت دین کرتے رہے۔۔۔موصی تھے اور اپنے نیک نمونہ سے بہتوں کے لئے رہنمائی کا موجب تھے۔جماعت احمد نگر میں سالہا سال تک سیکرٹری مال کے عہدہ پر نہایت عمدہ کام کرتے رہے۔۔۔درویشانہ زندگی فخر سے گزاری اور دوسروں کا دست نگر ہونا سخت عار سمجھتے تھے۔۔ہم نے ہمیشہ حضرت بابو صاحب مرحوم کو استغناء کے مقام پر دیکھا ہے انہیں سلسلہ کی جرات مندانہ تر جمانی کرنے پر