تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 442
تاریخ احمدیت 442 جلد ۲۰ چند روز بعد ہندو سٹال والے نے مسلمانوں کے گھڑے کو ہاتھ لگا دیا۔آپ نے اس سے کہا کہ تم مسلمانوں سے زیادہ گندے ہو۔اس روز میں نے ایک مسلمان سے گھڑے کی قیمت دلائی تھی اب تم رقم ادا کرو۔چنانچہ نتیجہ ہندوؤں کی ایسی شکایات رک گئیں۔۲۵ ۱۹؍ دسمبر ۱۹۲۸ء کو قادیان دارالامان میں ریل گاڑی جاری ہوئی تو آپ قادیان کے اولین سٹیشن ماسٹر مقرر ہوئے۔آپ ساری عمر پابندی قانون کے جن اصولوں پر کار بند رہے ان پر آپ قادیان میں تعیناتی کے دور میں اور زیادہ سختی سے عمل پیرا ہو گئے۔باوجود یکہ قادیان کا سٹیشن چھوٹا سا تھا اور اس کے پلیٹ فارم ٹکٹ کی ضرورت نہ تھی۔لیکن قادیان کی شہرت اور تقدس کے احترام میں آپ نے پلیٹ فارم ٹکٹ جاری کروا دیا۔آپ نے کبھی بلا ٹکٹ سفر نہیں کیا اور نہ آپ کے اقارب میں سے کسی کو یہ جرات ہوتی تھی کہ بلا ٹکٹ سفر کر کے آپ تک پہنچے۔ایک مرتبہ آپ کی اہلیہ محترمہ ایک مرغی بک کرائے بغیر لے آئیں۔آپ کو علم ہوا تو فوراً اس کے کرایہ کی رسید کاٹ کر رقم ادا کر دی۔ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد آپ دارالبرکات قادیان میں رہائش پذیر ہوئے۔۱۹ ؍ جولائی ۱۹۳۲ء کو حضرت مصلح موعود نے اپنے دست مبارک سے آپ کے مکان کی بنیا د رکھی۔۲۷ آپ اعزازی طور پر نظارت امور عامہ میں شعبہ رشتہ ناطہ میں کام کرتے رہے۔قیام پاکستان کے بعد آپ قادیان سے ہجرت کر کے احمد نگر ( متصل ربوہ) میں مقیم ہو گئے اور یہیں وفات پائی۔حضرت بابو صاحب احمدیت کا چلتا پھرتا نمونہ اور پر جوش داعی الی اللہ تھے۔ہر جگہ پیغام حق پہنچانے میں دیوانہ وار سرگرم عمل رہے۔آپ کے سوانح نگار ملک صلاح الدین صاحب ایم اے نے آپ کی تبلیغی زندگی کے متعدد ایمان افروز واقعات درج کئے ہیں۔آپ کی تحریک و تبلیغ سے ابتداء میں جو بزرگ حلقہ بگوش احمدیت ہوئے وہ خلیفہ محمد صادق علی صاحب مختار عام حضور حضرت پیر سید گیلانی حسنی حسینی آفندی مجیدی سجادہ نشین رانی پور شریف ریاست خیر پور سندھ تھے۔جن کا نام ”سلسلہ حقہ کے نئے ممبر کے زیر عنوان اخبار بدر ۲۶ ستمبر ۱۹۰۷ء پر شائع ہوا اور حضرت اقدس کے نام بیعت کے دو مفصل خطوط اسی اخبار کی ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۷ء کی اشاعت میں صفحہ ا پر چھپے۔ا حضرت بابو صاحب نے ۱۹۲۲ء کی مشہور آریہ شدھی تحریک کے خلاف جہاد میں حصہ لیا