تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 375
تاریخ احمدیت 375 رفقاء سب شامل تھے۔ایسوسی ایشن کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ مبادا کشمیر کمیٹی آگے چل کر احرار ہی کی ایک شاخ بن جائے اور وہ متانت و سنجیدگی رفو چکر ہو جائے جس سے ہم اب تک کشمیر میں کام لیتے رہے ہیں۔بہر حال تھوڑا بہت کام ہوتا رہا۔لیکن کچھ مدت کے بعد نہ کمیٹی رہی نہ ایسوسی ایشن۔رہے نام اللہ کا۔“ سالک صاحب کا حضرت امام جماعت احمدیہ (ثانی) سے نہایت مخلصانہ دوستی کا تعلق رہا۔۱۹۱۲ ء کی بات ہے سالک صاحب قادیان گئے۔حضرت امام جماعت احمدیہ (اول) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جب انہی دنوں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی حج پر روانگی کی الوداعی تقریب منعقد ہوئی تو اس میں سالک صاحب نے الوداعی نظم پڑھی جو اخبار ”بدر“ میں شائع ہوئی۔بعد میں سالک صاحب گا ہے گاہے قادیان اور پھر اس کے بعد ربوہ جاتے رہے۔اور حضرت امام جماعت سے ملتے رہے۔مجھے یاد ہے جب میں حضرت امام جماعت احمدیہ ( ثانی) کی آخری بیماری میں حضور کی عیادت و زیارت کے لئے حاضر ہوا تو سالک صاحب کے ذکر پر حضور پر سخت رقت طاری ہوئی اور فرمایا سالک صاحب بہت خوبیوں کے مالک تھے۔افسوس وہ بھی رخصت ہوئے۔“ ذکر ہو رہا تھا سالک صاحب کی حق گوئی کا۔۱۹۵۲ء میں ایک خط میں لکھتے ہیں :- آج کل مغربی پاکستان کے شہروں میں مولویوں اور احراریوں نے احمدیوں کے خلاف خاصا ہنگامہ کر رکھا ہے اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ظفر اللہ خان کو وزارت سے نکالا جائے۔اور احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ہم لوگ حکومت میں اس مطالبہ کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔میں پچھلے ہفتے وزیر اعظم صاحب سے بھی ملا تھا۔دیکھیں اس محشرستاں کا کیا حشر ہوتا ہے۔اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ قطع نظر اپنے ذاتی مذہبی عقائد کے جلد ۲۰