تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 374 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 374

تاریخ احمدیت 374 ۱۵ /اگست کو پاکستان قائم ہو گیا۔اس وقت کے بعد کی سرگزشت لکھنا بے حد دشوار ہے۔میں ابھی اپنے دل و دماغ اور اپنے قلم میں اتنی صلاحیت نہیں پاتا کہ جو کچھ میں نے دیکھا اور سنا اور بساط سیاست پر شاطرین نے جو چالیں چلیں ان کو قلمبند کرسکوں۔اور شاید اس سرگزشت کو فاش انداز سے لکھنا مصلحت بھی نہیں۔چنانچہ سالک صاحب نے ۱۹۴۹ء میں انقلاب بند کر دیا کہ یہی مصلحت بینی کا تقاضہ تھا۔سالک صاحب کچی بات لکھنے کہنے میں بے باک تھے۔سرگزشت الاسلام میں ملکانہ میں انسداد ارتداد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- بریلوی، دیوبندی، شیعہ، لاہوری احمدی ہر نیرنگ کی جمعیتہ تبلیغ کے مبلغ غرض ہر فرقہ اور ہر جماعت کے کارکن آگرہ اور نواحی علاقوں میں پھیل گئے۔چاہئے تو یہ تھا کہ مل جل کر ( دینِ حق ) کی خدمت کرتے لیکن ان جماعتوں نے وہاں آپس میں لڑنا شروع کر دیا۔صرف احمدی مربیان کچھ کام کرتے تھے اور باقی تمام فرقوں کے لوگ یا آپس میں برسر پیکار رہتے یا احمدیوں کے خلاف کفر کے فتوے شائع کرتے تھے۔غرض ان لوگوں کی غیر مآل اندیشی اور نفسانیت نے انسداد ارتداد کو ناممکن بنادیا۔اور کفر کی مشین پوری قوت سے چلتی رہی۔“ تحریک آزادی کشمیر کے سلسلہ میں لکھتے ہیں :- آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر بدستور مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب چلے آرہے تھے لیکن جب احرار نے احمدیوں کے خلاف شورش شروع کر دی تو مرزا صاحب نے خود ہی صدارت سے استعفیٰ دے دیا اور علامہ اقبال کمیٹی کے صدر منتخب ہوئے۔کمیٹی کے بعض ممبروں اور کارکنوں نے احمدیت کی مخالفت محض اس لئے شروع کر دی کہ وہ احمدی ہیں۔یہ صورت حال مقاصد کشمیر کے اعتبار سے سخت نقصان دہ تھی۔چنانچہ ہم نے کشمیر کمیٹی کے ساتھ ہی ساتھ ایک کشمیر ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی۔جن میں سالک، مہر ، سید حبیب، منشی محمد دین فوق ، مرزا بشیر الدین محمود احمد اور ان کے احمدی اور غیر از جماعت جلد ۲۰