تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 373
تاریخ احمدیت 373 کسی طرح مزدوری کر کے پیٹ پال لیتے لیکن عملہ کے سولہ سترہ انسانوں کے روزگار کا بندو بست تو اخبار کے بغیر نہیں ہو سکتا۔“ یہ سالک صاحب کی انسان دوستی اور غریب پروری کی ایک مثال ہے۔اخبار انقلاب کے پہلے پرچہ میں صفحہ اول پر علامہ اقبال کی ایک تازہ فارسی نظم شائع ہوئی جو علامہ نے ظفر علی خان کی مزدور عملہ پر زیادتی سے متاثر ہو کر لکھی۔اخبار انقلاب کے سرورق پر روزانہ علامہ اقبال کا یہ شعر چھپتا رہا آفتاب تازه پیدا بطن گیتی ނ ہوا آسماں ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک! اور اس شعر سے اوپر قرآن کریم کی آیت جس کا ترجمہ یہ ہے اور ظلم کرنے والے عنقریب جان لیں گے کہ کس مقام کی طرف ان کو لوٹ کر جانا ہے۔اخبار انقلاب مسلمانان ہند کے سیاسی اور مذہبی حقوق حاصل کرنے کے لئے وقف رہا۔پھر قیام پاکستان کے لئے سالک و مہر اور انقلاب کی جد و جہد کسی چوٹی کے لیڈر سے کم نہ تھی۔سالک و مہر جہاں قیام پاکستان کی حمایت میں مضامین لکھتے لکھواتے رہے وہاں ذاتی طور پر عبد اللہ ہارون وغیرہ اکابر سے مشوروں میں مخلصانہ تعاون کرتے رہے۔آج کل تاریخ کو مسخ کرنے کا دور ہے۔جن مسلمان کہلانے والے ) کانگرسی اور احراری گروہوں) نے ہندوستان میں غیر مسلموں سے مل کر پاکستان بننے کی سخت مخالفت کی اسے نا پاکستان اور قائد اعظم کو کافر اعظم کہتے رہے وہ اب پاکستان کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں اور بزور اقتدار حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں لیکن جو لوگ ہندوستان میں مسلم حقوق کے لئے لڑتے رہے اور قیام پاکستان کی جدوجہد میں صف اول میں شامل رہے ان کے ذکر خیر سے بھی کاملاً اجتناب کیا جا رہا ہے۔سیاست و صحافت کے اس رخ کو سالک صاحب نے شروع میں ہی بھانپ لیا تھا۔اپنی کتاب سرگزشت میں خاتمہ بخن" میں لکھتے ہیں :- جلد ۲۰