تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 372
تاریخ احمدیت 372 جلد ۲۰ ہیں۔علم وفضل کے ساتھ ساتھ نہایت با اخلاق ، بامروت اور نہایت ہمدرد اور مخلص انسان تھے۔دوسروں کا کام کر کے، دوسروں کی سفارش کر کے، دوسروں کی اعانت کر کے، انہیں روحانی خوشی ہوتی تھی۔حسنِ اخلاق اور شیریں کلامی میں پرانے بزرگوں کا بہت اچھا نمونہ تھے۔بہت سی دلچسپ کتابوں کے مصنف مؤلف اور مترجم تھے جن کی فہرست خاصی طویل ہے۔۱۳ دسمبر ۱۸۹۴ء کو بٹالہ میں پیدا ہوئے اور ۲۷ رستمبر ۱۹۵۹ء کو مسلم ٹاؤن لا ہور میں وفات پائی۔‘ 66 ۶۱ آپ کے برادر اصغر اور نہایت مخلص احمدی جناب عبدالجلیل صاحب عشرت آپ کی ادبی، سیاسی اور ملی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں :- عبدالمجید سالک ایک بلند پایہ صحافی ، ادیب، شاعر، افسانہ نگار، مزاحیہ نویس اور سب سے بڑھ کر ایک انسان دوست شخص تھے۔ان کی ذات مذہبی و مسلکی تعصب سے بالا تھی۔وہ محبت سب سے اور نفرت کسی سے نہیں‘ کے اصول کے پابند تھے۔سچ بات کہنے اور لکھنے میں بے باک تھے۔ان کی زندگی کے مختلف شعبوں پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔یہاں ان کی صحافت، انسان دوستی اور حق گوئی کے متعلق چند اشارات کئے جانے مقصود ہیں۔۱۹۲۷ء کے آغاز میں جبکہ سالک صاحب، ظفر علی خان کے اخبار زمیندار کے مدیر تھے اخبار کی مالی حالت سخت خراب تھی۔ظفر علی خان اور اختر علی خان نے عملہ اخبار کو مہینوں سے ان کی تنخواہیں نہ دی تھیں۔عملہ نے اس زیادتی پر تنگ آکر ہڑتال کر دی۔سالک و مہر نے بھی غریب عملہ کی حمایت میں ہڑتال کی۔اس پر بھی تنخواہیں نہ ملنے پر آخر سالک و مہر اور سارا عملہ اخبار مستعفی ہو گیا۔سخت نا مساعد حالات کے باوجود مستعفی عملہ کے معاش کا بندوبست کرنے کے لئے سالک صاحب نے اخبار انقلاب“ جاری کیا۔اپنی کتاب سرگزشت میں سالک صاحب لکھتے ہیں۔”مولانا عبدالقادر قصوری نے ہم پوچھا کہ اب کیا کرو گے؟ تو ہم نے کہا اخبار نکالیں گے۔اس کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں۔صرف ہم دونوں (سالک ومہر ) کا معاملہ ہوتا تو ہم کسی نہ