تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 371
تاریخ احمدیت 371 جلد ۲۰ گوشے گوشے میں محسوس کیا گیا ہے۔مرحوم کے فن اور تحقیق و تدقیق کے جذبہ سے قوم کے علمی اور ادبی سرمائے میں گرانقدر اضافہ ہوا ہے۔۔66 مرحوم کی آخری تصنیف ”مسلم ثقافت ہندوستان میں ایشیا کی بہترین کتاب سمجھی گئی ہے۔اور یونسکو نے مصنف کو انعام کا مستحق قرار دیا ہے۔یہ ایک ایسا اعزاز ہے جس پر ملک وقوم فخر کر سکتے ہیں۔مولانا مرحوم یوں تو بہت سی خوبیوں کے مالک تھے لیکن سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ادبی ، علمی بلکہ ہر شعبہ زندگی میں نوجوانوں کی راہنمائی اور حوصلہ افزائی کرنے کا مقدس جذ بہ آپ کے حساس دل میں پوری طرح موجزن تھا۔مولانا مرحوم کئی مرتبہ ربوہ آئے۔آخری بار ۱۹۵۵ء میں تعلیم الاسلام کالج کے ایک مشاعرے کی صدارت کے لئے تشریف لائے تھے۔اس وقت طلبہ نے مرحوم کی پرکشش شخصیت کا قریب سے جائزہ لیا اور انہیں خوش خلقی ، معنی آفرینی ، جدت طرازی اور بذلہ سنجی کا مجسمہ پایا۔ان کا متبسم چہرہ ، خلوص، شفقت اور بے لوث محبت کا آئینہ دار تھا۔موت نے قوم سے ایک بہت بڑا ادیب ،صلح کل مصنف ، معروف طناز، مشہور صحافی اور عظیم شاعر چھین لیا ہے۔مولانا سالک مرحوم کی وفات سے ملک کے علمی ، ادبی اور صحافتی حلقوں میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جس کے پُر ہونے کی توقع نہیں۔ادارہ المنار اس عظیم ملی صدمے پر قوم کے صدمے میں پوری طرح شریک ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم پر رحم فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل بخشے۔۶۰ ۵- جماعت احمدیہ کے مشہور انشاء پرداز ، یگانہ روزگار مصنف اور فاضل بزرگ شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی نے مولانا سالک صاحب کو حسب ذیل الفاظ میں خراج تحسین ادا کیا : - مولانا عبدالمجید سالک صاحب بی اے لاہور کے مشہور ادیب، اعلیٰ پایہ کے شاعر بہت بڑے اخبار نویس، بہت سی کتابوں کے مصنف ، نہایت زندہ دل، بذلہ سنج اور اپنے دور کے بے نظیر مزاح نویس تھے۔”زمیندار“ اور انقلاب کے افکار و حوادث“ ان کی مزاح نویسی کے لازوال نمونے