تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 359
تاریخ احمدیت 359 جلد ۲۰ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ اگر احمدی جماعت گمراہ ہے تو غیر احمدی جماعتیں اور ان کے اکثر علماء خواہ وہ سنی ہوں یا شیعہ، مقلد ہوں یا غیر مقلد ، اہل قرآن ہوں یا اہلِ حدیث کہیں زیادہ گمراہ ہیں۔کیونکہ رسول اللہ کو خاتم النبیین ماننے کے بعد بھی وہ اسوۂ نبی کا اتنا احترام نہیں کرتے جتنا احمدی جماعت با وجود انکار ختم نبوت کے (حالانکہ یہ الزام صحیح نہیں ) کرتی ہے۔اگر ( دین حق ) کی صحیح روح محض بلندی اخلاق و انسانیت پرستی ہے جس کا تعلق یکسر عملی زندگی سے ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمانوں کی ایک بے عمل جماعت کو تو ہم سچا مسلمان سمجھیں اور دوسری با عمل جماعت کو کافر و غیر مسلم قرار دیں محض اس لئے کہ اس کا بانی ومؤسس کچھ ایسی باتیں کہتا ہے جو نا قابل قبول معلوم ہوتی ہیں۔اس میں شک نہیں کہ دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں جو چند مخصوص شعائر ومعتقدات نہ رکھتا ہو۔لیکن حقیقی مقصود محض اصلاح اخلاق ہے اور عبادات و معتقدات صرف ذریعہ ہیں۔تمدن و معاشرہ کی تنظیم و اخوت و انسانیت کی ترویج و اشاعت کا۔پھر اس حقیقت کے پیش نظر آپ مسلم جمہور اور ان کے علماء کے حالات و کردار کا مطالعہ کریں گے تو صورتِ حال بالکل واژگوں نظر آئے گی۔کیونکہ ان کے نزدیک ( دین حق کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ چند ما بعد الطبیعاتی عقائد کو تسلیم کر کے رسمی عبادت کر لی جائے اور ہیئت اجتماعی کے مسائل خیر و فلاح کو خدا پر چھوڑ دیا جائے حالانکہ خدا نے یہ چیز خود انسان پر چھوڑ دی تھی۔(ليس للانسان الا ماسعى) اس سلسلہ میں جب میں نے مسلمانوں کی دوسری جماعتوں کا مطالعہ کیا تو عملی زندگی اور اصلاحی جد و جہد کے لحاظ سے کئی جماعتیں سامنے آئیں۔بوہرہ ، میمن ، خوجہ ، بہائی، احمدی۔ان میں سے اول الذکر تین جماعتوں کو میں نے نظر انداز کر دیا۔کیونکہ وہ ایک مخصوص دائرہ کے اندر محدود ہیں۔جس میں کوئی غیر شخص داخل نہیں ہوسکتا۔بہائیوں کا دائرہ عمل بے شک زیادہ وسیع ہے اور عقائد سے قطع نظر اخلاقی حیثیت سے اس کی وسعت نظر مجھے پسند آئی۔لیکن چونکہ یہ عجمی تحریک