تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 360 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 360

تاریخ احمدیت 360 ہے اور سرزمین ہند سے اس کا کوئی تعلق نہیں اس لئے اس کی کامیابی یہاں مجھے مستعبد نظر آئی۔اب رہ گئی تھی صرف احمدی جماعت سو بے اختیار میرا جی چاہا کہ ان کی زندگی کا قریب تر مطالعہ کرنے کی غرض سے خود قادیان جاؤں لیکن افسوس ہے کہ یہ ارادہ فی الحال پورا نہ ہوسکا۔(ممکن ہے کبھی پورا ہو جائے ) اور ان کا لٹریچر فراہم کر کے اس کا مطالعہ شروع کیا۔پھر میں تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ از اول تا آخر میں نے اس کا سارا لٹریچر پڑھ لیا ہے لیکن جتنا کچھ میسر آیا وہ بھی نتیجہ تک پہنچنے اور صحیح رائے قائم کرنے کے لئے کافی تھا۔اس سلسلہ میں سب سے پہلے ان کے معتقدات میرے سامنے آئے۔اور ان میں کوئی بات مجھے ایسی نظر نہ آئی جو جمہور مسلم کے معتقدات کے منافی ہو۔یعنی مسلمان ہونے کی جو شرطیں دوسری مسلمان جماعتوں میں ضروری قرار دی جاتی ہیں وہی ان کے یہاں بھی ہیں۔اور ان کے اس عقیدہ کو نظر انداز نہ کر دیا جائے کہ مرزا غلام احمد مثیل مسیح یا مہدی موعود تھے تو تمام عقائد و شعائر میں یکساں ہیں۔میں نے ان کی تفاسیر دیکھیں ان کا استناد بالاحادیث دیکھا ان کی کتب تاریخ و سیر کا مطالعہ کیا لیکن ان میں کوئی بات ایسی نظر نہیں آئی جو مسلمہ جمہور کے خلاف ہو۔یہاں تک کہ انکار ختم نبوت کا الزام بھی مجھے بالکل غلط نظر آیا۔رہا دعویٰ مہدویت سو اس سے انکار کی بھی کوئی وجہ نظر نہیں آئی۔جبکہ خود کلام مجید سے ہر زمانہ اور ہر قوم میں کسی نہ کسی بادی و مصلح کا پیدا ہونا ثابت ہے۔اور میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مرزا صاحب جھوٹے انسان نہیں تھے وہ واقعی اپنے آپ کو مہدی موعود سمجھتے تھے اور یقیناً انہوں نے یہ دعوی ایسے زمانہ میں کیا جب قوم کی اصلاح و تنظیم کے لئے ایک ہادی و مرشد کی سخت ضرورت تھی۔علاوہ اس کے دوسرا معیار جس سے ہم کسی کی صداقت کو جان سکتے ہیں نتیجہ عمل ہے۔سو اس باب میں احمدی جماعت کی کامیابیاں اس درجہ واضح و روشن ہیں کہ اس سے ان کے مخالفین بھی انکار کی جرأت نہیں کر سکتے۔اس وقت دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں ان کی تبلیغی جلد ۲۰