تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 358
تاریخ احمدیت 358 دوسرے درس نظامی کی ” قال اقوال اور اس کی روایت پرستانہ گرفت سے کہاں چھٹکارا تھا کہ میں آزادی کے ساتھ کسی مسئلہ پر غور کرسکتا۔تاہم یہ کتاب مرزا صاحب کی وسعت مطالعہ اور قوت استدلال کا بڑا گہرا اثر میرے ذہن وفکر پر چھوڑ گئی۔اور عرصہ تک میں اس سے متاثر رہا۔مجھے نہیں معلوم کہ احمدی تحریک کا آغاز اس وقت تک ہو چکا تھا یا نہیں اور اگر ہو چکا تھا تو اس کے مقاصد و دعاوی کیا تھے۔لیکن اس کے بعد ضروری کوئی نہ کوئی آواز اس جماعت کے متعلق میرے کانوں میں پڑ جاتی تھی۔اور وہ آواز یکسر مخالفانہ ہوتی تھی۔زمانہ گزرتا گیا اور ختم تعلیم کے بعد بھی عرصہ تک میں احمدی تحریک سے بے خبر رہا لیکن اس دوران میں بعض ایسی کتابیں ضروری میری نگاہ سے گزرتی رہیں جو اس تحریک کی مخالفت میں شائع ہوئیں۔اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میں ان سے متاثر بھی ہوا لیکن یہ تاثر زیادہ تر سلبی قسم کا تھا ایجابی نہ تھا کیونکہ جو کچھ میں نے سنا وہ مخالفین کی زبان سے سنا۔خود اس جماعت کے لٹریچر کی طرف سے میں بالکل خالی الذہن تھا۔ان کتابوں نے بعض عجیب و غریب باتیں میرے ذہن نشین کرادی تھیں۔مثلاً یہ کہ جماعت اپنے سوا کسی کو مسلمان نہیں سمجھتی۔ان کی مسجد میں اور نمازیں جمہور سے علیحدہ و مختلف ہیں۔وہ غیر احمدی جماعتوں سے رشتہ مصاہرات بھی قائم نہیں کرتے۔نیز یہ کہ مرزا صاحب ختم نبوت کے قائل نہ تھے۔اپنے آپ کو مثیل مسیح یا مہدی موعود کہتے تھے۔وحی و الہام کا مہبط بھی قرار دیتے تھے۔اور برطانوی حکومت کی حمایت حاصل کرنا ان کی تحریک کا حقیقی مقصد تھا۔اس میں شک نہیں ان میں سے بعض باتیں مجھے پسند نہیں آئیں۔اور میں اس تحریک کو بہ نظر استخفاف دیکھتا رہا۔لیکن جب اس کے بعد میں نے دائره تقلید و روایات سے ہٹ کر غائت مذاہب کا مطالعہ شروع کیا اور انہی علماء اسلام کے افعال و کردار کو سامنے رکھا جو اس تحریک کے سخت دشمن تھے تو جلد ۲۰