تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 357 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 357

تاریخ احمدیت فصل سوم 357 جلد ۲۰ علامہ نیاز محمد خان نیاز مدیر "نگار" علامہ نیاز فتح پوری کا حقیقت افروز تبصرہ (ولادت ۱۸۸۷ء A وفات ۱۹۶۶ء) ہندوستان کے ایک نہایت بلند پایہ نقاد، ادیب اور روشن خیال عالم و فاضل تھے جو پوری زندگی متعصب اور فرقہ پرست مولویوں سے چومکھی لڑائی لڑتے رہے۔مگر جہاں مولانا عبدالماجد دریا بادی جیسے وسیع المشرب عالم دین جماعت احمدیہ کی خدمات دینیہ کی برملا تعریف کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے وہاں علامہ نیاز ابھی تک خاموش تھے اس سال ان کی زندگی میں یہ خوشگوار علمی انقلاب رونما ہوا کہ انہوں نے سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر کا گہری نظر سے مطالعہ کرنا شروع کیا اور پھر اس کی تائید میں ایک نڈر سپاہی کی طرح میدان میں آگئے۔اور ہر نوع کے عواقب سے بے نیاز ہوکر بقیہ عمر اس جرات و بے باکی سے سلسلہ احمدیہ کے عظیم کارناموں کو سراہا کہ ادبی و مذہبی حلقوں میں زبردست ہلچل مچ گئی۔اس سلسلہ میں پہلا حقیقت افروز تبصرہ آپ کے قلم سے رسالہ ” نگار لکھنو (اگست ۱۹۵۹ ء ) میں شائع ہوا جو بجنسہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔" ملاحظات اب سے تقریباً ۶۰ سال پہلے کی بات ہے جب مناظرہ کی احمدی جماعت ایک کتاب ”سرمہ چشم آریہ میری نگاہ سے گزری اور یہ تھا میرا اولین غائبانہ تعارف اس کتاب کے مصنف جناب مرزا غلام احمد صاحب (بانی جماعت احمدیہ ) سے۔میرے والد کو اس فن سے خاص دلچسپی تھی۔اور یہ کتاب انہی کے اشارہ سے میں نے پڑھی تھی۔یہ زمانہ میری طالب علمی کا تھا اور بعض معقول اساتذہ کے زیر اثر مذہب کا مجادلانہ ذوق میرے اندر بھی نشو ونما پا رہا تھا اس لئے مجھے یہ کتاب پسند آئی اور بار بار میں نے اس کا مطالعہ کیا لیکن یہ مطالعہ صرف کتاب ہی تک محدود رہا اور خود مرزا صاحب کی شخصیت یا ان کی مذہبی تبلیغ و اصلاح پر غور کرنے کا موقعہ مجھے نہ مل سکا۔کیونکہ اس کی اہلیت و فرصت دونوں مجھے حاصل نہ تھیں۔اول تو میں کمسن تھا