تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 238 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 238

تاریخ احمدیت 238 جلد ۲۰ ,, ریل تھی۔والد صاحب کچھ پیدل، کچھ ٹانگے اور کچھ ریل پر سفر کرتے۔ایک بار کرا یہ کم تھا۔جہاں تک ممکن تھا ٹکٹ لے لیا۔ٹکٹ چیکر نے پکڑ لیا کہ ٹکٹ دکھاؤ۔والد صاحب بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی جھوٹ موٹ کہانی بناؤں تو یہ سراسر غلط ہے۔کہاں جانا ہے“ کے جواب میں قادیان کا نام لوں تو ا تار بھی دیا جاؤں گا اور سزا بھی ملے گی۔سوچا ” خاموش رہو۔“ اب بار بار ٹکٹ چیکر پوچھے ٹکٹ کہاں ہے، کہاں جانا ہے؟ ” ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم والا منظر۔والد صاحب اسے دیکھیں ، آنکھوں سے آنکھیں چار ہوں لیکن کوئی جواب نہ ملے۔وہ ٹکٹ چیکر گونگا بہرہ سمجھ کر چلا گیا۔والد صاحب بیان کرتے تھے کہ کوئی جو مرضی سمجھے میں نے جھوٹ تو نہیں بولا اور قادیان بھی پہنچ گیا۔والد صاحب بیان کرتے ہیں کہ کھیتی باڑی کے دوران چنیوٹ کے ہندو بیو پاری ٹھیکہ پر زمین لیتے۔بیج ان کا ہوتا ، پانی اور رکھوالی ہماری۔ایک موسم میں رمضان شریف آ گیا۔ہندو تاجر نے خربوزے بوئے ہوئے تھے۔شام کو وہ پکے ہوئے خربوزے توڑتے اور ڈھیر لگا کر دوسری صبح سویرے سویرے گدھوں پر لاد کر منڈی لے جاتے۔رات کو میری چوکیداری تھی۔میں نے روزہ رکھنا تھا۔میں نے ایک خربوزہ جو بہت ہی میٹھا تھا اجازت سے اپنی چارپائی کے سروالے پائے کے ساتھ رکھ لیا کہ صبح روٹی اس خربوزے سے کھا کر سحری کروں گا۔رات کو گیدڑ آیا اور وہی خربوزہ سارے ڈھیر کو چھوڑ کر کھا گیا۔صبح روشنی میں خربوزے کے چھلکے نظر آئے۔بہت ہنستے تھے کہ گیدڑ انسانوں سے بھی زیادہ میٹھے خربوزہ کو چنے میں ماہر ہے۔والد صاحب میں احمدیت نے دعا پر یقین اور توکل الہی کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا۔آپ کی دعا کی قبولیت کا ایک واقعہ حضرت یونس سے ملتا جلتا ہے۔والد صاحب زبر دست تیراک تھے۔ان دنوں پانی طوفانی کیفیت سے بہتا تھا۔پل وغیرہ تو تھا نہیں ، اکثر دیہاتی تیراک ہوتے تھے۔تیر کر ہی دریا پار کرتے تھے۔اور شدید طوفانی بھری لہروں کو بھی چیر کر لوگ پار اتر جاتے تھے۔اسی قسم کی کیفیت میں ایک بار والد صاحب کو دوسرے کنارے پر جانا تھا۔چنانچہ دریا میں چھلانگ لگادی۔جب درمیان میں پہنچے تو ایک بہت بڑے گرداب میں پھنس گئے۔بہت کوشش کی لیکن کوئی پیش نہ گئی۔آنا فانا ایک بڑے بھنور نے ان کو دبایا اور والد صاحب دور کہیں نیچے چلے گئے۔شادی ہو چکی تھی ، ابتدائی ایام تھے۔نیچے خلا تھا۔دعا کرنے لگے کہ الہی میری پردیسن بیوی ہے اس کا کیا بنے گا۔میں تو یہاں سے اب بچ کر نہیں نکل سکتا۔لمحہ بھر کیا کیا دعائیں کیں۔ہوش آیا تو اپنے آپ کو اوندھے مونہہ دریا کے کنارے ریت پر پایا۔اونچی جگہ سے کوئی آدمی جھانک رہا تھا کہ یہ