تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 239 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 239

تاریخ احمدیت 239 جلد ۲۰ شخص مردہ ہے کہ زندہ۔غالباً گاؤں کے کسی شخص نے ڈوبتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔اس نے بھاگ کر گاؤں اطلاع کی۔رشتہ دار وغیرہ روتے پیٹتے دریا کی طرف بھاگے۔آپ اتنی دیر میں کنارے پر موجود شخص سے کپڑا مانگ کر اور پہن کر ہوش میں آچکے تھے۔والد صاحب بھائیوں سے بیزار ہو کر علیحدہ ہو چکے تھے۔ریلوے میں ایک احمدی کی وساطت سے انڈیا برج ڈیپارٹمنٹ ( Bridge Dept) میں ملا زمت تھی۔ہندوستان کے کسی دور کے علاقے میں کسی پل پر کام ہو رہا تھا۔آبادی سے ہٹ کر چھولداریوں میں رہتے تھے۔ایک بار تنخواہ لیٹ ہو گئی۔آپ کو فکر لاحق ہوئی میری بیوی بچے خرچ کہاں سے کریں گے۔وہ مانگتی بھی نہیں کسی سے، کیا کروں۔اسی سوچ بچار میں آخر دعا کی طرف توجہ ہوئی۔دعا کی کہ اللہ میاں مجھے اتنی رقم چاہئے میں تجھ سے ادھار مانگتا ہوں میں واپس کروں گا۔یہی دعا کرتے کرتے ایک رات اپنے احمدی دوست کے ساتھ جب نماز سے فارغ ہو کر جائے نماز اٹھایا تو ان کو کوئی چیز گرنے کی آواز آئی۔بجلی تو غالبا نہ تھی۔ڈھونڈا تو آپ کے ہاتھ میں اتنی رقم آئی، نوٹ وغیرہ، جتنے آپ نے خدا تعالیٰ سے مانگے تھے۔بہت خوش ہوئے کہ خدا تعالیٰ نے دعا سن لی ہے۔دوسرے دن فوراً منی آرڈر کر دیئے۔کچھ دنوں کے بعد جب تنخواہ ملی تو سوچ میں پڑ گئے کہ میں نے خدا تعالیٰ سے ادھار مانگے تھے اب میں خدا تعالیٰ کو واپس کیسے کروں۔غریبوں کو دوں تو وہ تو صدقہ میری طرف سے ہوا۔چندہ دوں تو وہ بھی مناسب معلوم نہیں دیتا۔پھر دعا شروع کی کہ اے اللہ میں تجھے کیسے لوٹاؤں۔آپ آبادی سے دور کسی پل وغیرہ پر کام کرنے کی وجہ سے ایک قسم کے بے آباد علاقہ میں تھے۔مہینہ پندرہ دن کا کھانے پینے کا سامان اکٹھا لے آتے تھے۔چنانچہ آپ مہینہ بھر کے لئے گھی وغیرہ بھی لے آئے۔رات کو غالباً ہنڈیا پکائی، گھی استعمال کیا لیکن ڈھکنا اچھی طرح بند نہ کیا۔رات کو کوئی جنگلی بلی وغیرہ آئی اور کچھ کھایا کچھ گرا کر بہا گئی۔صبح اٹھے تو دیکھا کہ گھی ضائع ہو چکا ہے۔اپنے نفس کو کوسنے لگے کہ یہ تمہارا قصور اپنا ہے۔بلی تو جانور ہے تم نے ڈھکنا کیوں نہ بند کیا۔اب مغلا تمہاری سزا ہے کہ مہینہ بھر گھی استعمال نہیں کرنا۔ٹھیک ہے جی ، بغیر گھی کے سہی ، لیکن لوگ دیکھنے والے کیا کہیں گے کہ مغلا صبح سوکھی روٹی پکاتا اور کھاتا ہے۔سوچا صبح صبح اندھیرے میں پکا کر کھا لیا کروں گا۔چنانچہ صبح صبح چولہا جلا تا ، توے پر پانی ڈالتا تا کہ وہ سوں سوں کرے شور پیدا ہو، لوگ سمجھیں مغلا پر اٹھے پکا رہا ہے۔ایک دن ایسا کر رہے تھے کہ اوپر سے وہی احمدی جس کے ساتھ نماز پڑھتے تھے آپہنچا۔بولا مغلا یہ کیا ڈرامہ ہے۔پانی توے پر۔والد صاحب بولے میاں یہ مغلے کی سزا ہے۔سارا واقعہ بتایا۔وہ احمدی بولا واہ مغلا ! معمولی نقصان پر اپنی جان