تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 237
تاریخ احمدیت 237 جلد ۲۰ جانور بیچارے بے چین ہو جاتے اور دوسرے جانوروں کو کھاتا دیکھ کر رسے توڑتے اور اس طرح جانوروں میں بھی لڑائی ہوتی اور بھائیوں میں بھی۔اسی طرح کے ایک جھگڑے میں تمہارے والد نے غصہ میں آکر کہہ دیا ایہہ کیاری مگروں وی نہیں لہندی۔“ کہ اس کیاری کا چارہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔مراد تھی کہ میں نے قرآن مجید کا سبق بھی پڑھنا ہوتا ہے اور اتنی دور سے پھر چارہ بھی کاٹنا ہوتا ہے۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس سال سیلاب آیا اور وہ پوری کی پوری کیاری ( کھیت ) دریا برد ہو گئی۔بھائی طعنہ دیں کہ لے مغلا کہتا تھا کہ کیاری سے جان نہیں چھوٹتی۔یہ کیاری ہمیشہ کے لئے چلی گئی۔خاندان کے پاس گائیں بھینسیں اور دوسرے جانور بہت تھے۔پھوپھی صاحبہ بیان کرتی تھیں کہ تمہارے والد صاحب گھر میں جھگڑا کھڑا دیتے کہ ہم پر زکوۃ لازم ہے، ان کی زکوہ نکالو۔لیکن دوسرے بھائی اس طرف توجہ نہ دیتے تھے۔ایک سال جانوروں میں بیماری پھیل گئی اور بہت سے ڈھور ڈنگر مر گئے۔تمہارے والد خوب ہنستے کہ لو اور زکوۃ نہ دو۔" احمدیت میں داخلہ پر خاندان میں رشتہ کا سوال ہی نہیں تھا۔لیکن ماں آخر ماں ہے۔یعنی ہماری دادی صاحبہ کو فکر رہتی تھی۔پھوپھی صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ تمہارے والد چوری چھپے قادیان چلے جاتے۔لیکن والدہ کو بتا دیتے کہ وہ کہاں جارہے ہیں۔اسی طرح کا ایک واقعہ ہے کہ آدھی رات کے وقت (بقول پھوپھی صاحبہ ) کمرے میں کھسر پسر ہوئی۔اندھیرا تھا۔میں والدہ کے قریب ہی دوسری چار پائی پر سوئی ہوئی تھی۔تمہارے والد صاحب نے ماں سے آہستہ سے کہا کہ ”اماں ساتھ ائے ماں بولی ” پتر ساک اے کتھے اے۔‘ والدہ اونچا سنتی تھی۔والد صاحب اونچا بولنا نہیں چاہتے تھے۔مبادا کسی کو خبر ہو جائے۔ہر بار والد صاحب کہتے ”اماں ساتھ اے۔‘ ساتھ اے سے مراد تھی کہ میرا کوئی ساتھ ہے جس کے ساتھ قادیان جارہا ہوں۔والدہ ہر بار پوچھتی ” پتر دس کتھے ساک اے۔“ ( بیٹا بتاؤ رشتہ کہاں ہے؟) پنجابی میں ” ساک“ رشتہ کو کہتے ہیں۔غرض اس دلچسپ مکالمہ میں پھوپھی صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ میری ہنسی نکل گئی۔والد صاحب نے پیار بھرے انداز میں ڈانٹ کر کہا اچھا تمہیں پتہ لگ گیا ہے تو اب چپ رہنا ، زبان بند رکھنا۔بہر حال ماں نے کچھ تمبا کو دیا کہ بیچ کر سفر کا خرچہ پورا کر لینا۔وو آپ قادیان آتے جاتے رہتے تھے۔جب بھی خاندان سے دل کبیدہ و مضطر ہوتا ، قادیان چلے جاتے۔بھائی پیچھا کرتے اور حضرت خلیفہ اسیح ثانی سے منت سماجت کر کے واپس لے جاتے۔اسی طرح کا ایک واقعہ ہے۔ریل تو نہیں تھی۔لاہور چک جھمرہ لائکپور (فیصل آباد )