تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 236 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 236

تاریخ احمدیت 236 جلد ۲۰ حضرت مولانا غلام سرور صاحب، حضرت میاں محمد صدیق صاحب بانی اور شاہ ولی اللہ صاحب ہیں۔ان کے گھروں میں بھی بے تکلفی سے چلے جاتے۔قادیان میں قیام عموماً حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کے ہاں ہوتا۔اور بعض دفعہ بیوی بچوں سمیت حضرت محمد صدیق صاحب بانی کے ہاں بھی قیام کرتے۔ہم تین چھوٹے بھائی ابھی بہت ہی صغرسنی میں تھے کہ والدہ مرحومہ ایک جلسہ سالانہ سے چند روز قبل داعی اجل کو لبیک کہہ گئیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔والد صاحب نے اس صدمہ اور غم کو کس صبر وشکر سے برداشت کیا واللہ اعلم بالصواب۔خاکسار نے اپنی پھوپھی جان اور بہن بھائیوں وغیرہ سے بعض واقعات سنے جو دلچسپ بھی ہیں اور ازدیاد ایمان کا موجب بھی۔پھوپھی جان بیان کرتی تھیں کہ خاندان کے افراد جب کوئی جانور وغیرہ چوری کر کے لاتے اور پکڑے جانے کا خطرہ سر پر منڈلانے لگتا تو فوراً اس جانور کو ذبح کر دیتے۔گوشت تو گھروں میں تقسیم کر دیا جاتا اور جانور کی اوجھڑی ، انتڑیاں ، گوبر ، خون وغیرہ باڑے کے درمیانے حصہ میں بڑا سا گڑھا کھود کر دیا دیا جاتا اور اوپر گوبر وغیرہ ڈال کر اپنے جانور باندھ دیتے۔تمہارے والد صاحب ایسی ہنڈیا نہیں کھاتے تھے اور کہہ دیتے مجھے اپنی بھینس کے دودھ سے روٹی دے دو۔اسی طرح کا واقعہ میرے چھوٹے پھوپھا جی سناتے تھے ( میری چھوٹی پھوپھی جان بھی بڑی نیک خاتون تھیں۔والد صاحب سے بہت پیار تھا۔ان کی شادی سانگراں سے جانب جنوب چناب کے کنارے کسی گاؤں میں ہوئی تھی۔مرحومہ دریائے چناب میں ڈوب کر فوت ہوئیں ) کہ ایک شادی کے موقع پر ہم نے چوری کا جانور ذبح کر ڈالا۔رات کو تمہارے والد صاحب نے کھسر پسر سن لی۔دوسرے دن صبح سویرے اٹھے اور خاموشی سے چنیوٹ اپنے گاؤں کی راہ لی۔ہمیں پتہ چلا تو لگے منت سماجت کرنے۔تمہارے والد کہیں کہ تم نے چوری کا جانور ذبح کیا۔میں حرام گوشت نہیں کھاؤں گا، نہ رہوں گا۔بھائیوں کے ساتھ زمیندارہ کرتے تھے۔مقامی مسجد کے مولوی صاحب سے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا۔صبح سویرے قرآن مجید کا سبق بھی لینا اور پھر جانوروں کے لئے چارہ بھی کاٹنا۔پھوپھی صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ ایک بار چارے والی کھیتی ذرا دور دریا کے نزدیک تھی۔دوسرے بھائی چارہ صبح سویرے کاٹ کر اپنے حصے کے جانوروں کو ڈالتے تو آپ کے اباجی کے حصے والے