تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 228 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 228

تاریخ احمدیت ہیں :- 228 حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔جلد ۲۰ ( تابعین اصحاب احمد حصہ دہم ) بیعت کے بعد آپ کی شدید مخالفت شروع ہو گئی۔میرے چچا رعب و دبدبہ والے تھے اور مویشی وغیرہ کی چوری میں ماہر بھی تھے۔چوروں کی پشت پناہی بھی کرتے تھے۔کسی کو ان کے خلاف گواہی دینے کی جرأت نہ ہوتی تھی مگر والد صاحب ہمیشہ ان کے خلاف سچی گواہی دیتے تھے اور ان کے غضب کا نشانہ بنتے تھے۔بڑے بھائی بیان کرتے تھے کہ اس زمانہ میں بیت مبارک قادیان میں نماز مغرب کے بعد مجلس عرفان ہوتی تھی اور حضرت مصلح موعود تشریف فرما ہوتے۔کم لوگ ہوتے تھے۔ابا میاں حضور انور کے پاؤں وغیرہ دباتے۔محبت و پیار کی باتیں ہوتیں۔حضور انور فرماتے سناؤ مغلا۔واقعات سناؤ۔تو ابا میاں اپنے بھائیوں کے اور دیگر دلچسپ واقعات سناتے۔ایسے واقعات حضرت خلیفہ ثانی نے کئی ایک خطبات یا تقاریر میں بیان کئے ہیں۔حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ نے بھی از راہ شفقت ۳۰ جون ۱۹۹۵ء کے خطبہ جمعہ میں اور بعدہ اردو کلاس نمبر ۱۳۴ میں حضرت خلیفہ ثانی کی تقاریر کے حوالہ سے ذکر فرمایا کہ مغلا ماریں کھاتے رہے لیکن حق نہیں چھپایا اور ہمیشہ سچ بولا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی والد صاحب کے ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ”ایک دفعہ سکھوں نے میری گھوڑیاں چرالیں اور پولیس نے میرے خیال میں انہیں تلاش کرنے کی کوشش کی۔لیکن چونکہ پولیس والے ایسے معاملات میں مجرموں سے کچھ لے کر کھا پی بھی لیتے ہیں اس لئے وہ سفارش بھی لے آئے کہ انہیں معاف کر دیں اور اپنی رپورٹ واپس لے لیں۔یہ لوگ گھوڑیاں واپس دے دیں گے۔ان کا خیال تھا کہ اگر انہوں