تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 229
تاریخ احمدیت 229 جلد ۲۰ شادی نے معاف کر دیا اور پولیس نے اپنی رپورٹ واپس لے لی تو بعد میں گھوڑیاں غائب کر دی جائیں گی۔میں نے کہا میں ایسا نہیں کروں گا۔ہمارے وہ دوست میرے پاس پہنچے اور انہوں نے کہا میں نے سنا ہے سکھوں نے آپ کی گھوڑیاں چرا لی ہیں۔وہ لوگ سیدھی طرح تو گھوڑیاں واپس نہیں کریں گے۔آپ اجازت دیں تو میں ان کی گھوڑیاں چوری کروا دوں۔اس طرح وہ آپ کی گھوڑیاں واپس کر دیں گے۔میں نے کہا آپ نے تو بہ کی ہوئی ہے اپنی تو بہ پر قائم رہیں۔گھوڑیوں کی خیر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غرض جب کوئی شخص سچائی کے ساتھ کام کرتا ہے تو خدا تعالیٰ خود اس کا بدلہ لیتا ہے۔مغلا جب احمدی ہوئے تو انہوں نے قومی عادت یعنی چوری کو ترک کر دیا۔اور جھوٹ بولنا بھی چھوڑ دیا۔کیونکہ یہ ابتدائی جرم ہوتا ہے ان کے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں نے ان کا بائیکاٹ کر دیا۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مغلا کا فر ہو گیا ہے۔لیکن بعد میں پتہ لگا کہ ان کا لڑکا کا فر ہو کر سچ بولنے لگ گیا ہے اور چوری بھی اس نے چھوڑ دی ہے۔66 ۱۲۶ والد صاحب کے رشتہ دار کہا کرتے تھے کہ تم برادری سے کٹ گئے ہو اب تمہارا رشتہ نہیں ہو گا۔اس لئے برادری میں رشتہ تو ناممکن تھا۔آپ قادیان اکثر آتے جاتے تھے۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی سے خاص دوستی تھی۔اکثر ان کے ہاں ہی قیام کرتے اور رشتہ کے بارہ میں دعا کی بھی اکثر درخواست کرتے۔ہم زبان بھی تھے۔خاکسار راولپنڈی میں تھا۔۱۹۷۰ء کی بات ہے مرحوم سید اعجاز احمد شاہ صاحب جن کو ایک لمبا عرصہ بطور انسپکٹر بیت المال خدمات سلسلہ کی سعادت ملی۔ایک شام کسی مجلس میں مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تمہاری والدہ ملتان کی تھیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا۔کہنے لگے کہ تمہیں پتہ ہے کہ تمہارے والد صاحب کی شادی کیسے ہوئی تھی۔میں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔کہنے لگ تو سنو ! قادیان میں قیام کے دوران تمہارے والد صاحب ایک بار پھرتے پھراتے آئے۔قیام تو حسب معمول حضرت مولانا را جیکی صاحب کے ہاں ہی تھا۔حضرت مولانا راجیکی صاحب کسی تحریر میں مشغول تھے۔تمہارے والد صاحب نے حسب عادت و معمول رشتہ کے لئے دعا کی درخواست کی۔حضرت مولانا نے تحریری