تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 227
تاریخ احمدیت 227 جلد ۲۰ کاٹتے اور مجبور کرتے کہ میں جھوٹ بول دوں۔لیکن میں کیا کہتا۔تم لائے تو تھے فلاں بھینس۔پھر میں جھوٹ کیسے بولوں۔نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ مجھے خوب مارتے۔وہ دوست تنگ آکر قادیان آگئے اور ایک احمدی انجینئر خاں بہادر نعمت اللہ خاں صاحب مرحوم نے جنہوں نے ربوہ کے قریب دریائے چناب ۱۲۵ 66 کا پل بنایا تھا انہیں ملازم کرا دیا۔" آپ کے صاحبزادے مکرم بشیر احمد طاہر صاحب حال مقیم سوئٹزر لینڈ آپ کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- ” میرے والد صاحب بزرگوار میاں محمد مغل مرحوم جن کو عرف عام میں مغلا کہا جاتا ہے ان کا اصل نام تو محمد مغل تھا لیکن دیہاتی ماحول و رواج کے زیر اثر ان کو مغلا کہا جاتا تھا۔بعدہ جماعت میں پھر وہ اسی نام سے جانے پہچانے جاتے تھے۔آپ چنیوٹ کے نزدیک دریائے چناب کے شمال مشرقی کنارے پر ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹ محمد یار میں رہتے تھے۔اعوان خاندان تھا۔اگر چہ والد صاحب کی کوئی دنیوی تعلیم نہ تھی لیکن احمدیت قبول کرنے کے بعد عام رواج کے مطابق انہوں نے گاؤں کے مولوی صاحب سے قرآن مجید ناظرہ پڑھ لیا تھا۔جیسا کہ بعد میں ذکر کروں گا احمدیت کی روشنی پانے پر کئی ایک احادیث اور قرآن مجید کی آیات یاد تھیں۔اس زمانہ میں ( آغاز بیسویں صدی عیسوی ) ظہور امام مہدی کا بہت چرچا تھا۔آپ تک بھی خبریں پہنچتی تھیں۔تاریخ احمدیت سے ثابت ہے کہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں لالیاں میں کچھ رفقاء تھے جو پا پیادہ قادیان جاتے تھے۔بڑے بھائی ملک منظور احمد صاحب انور مرحوم کے بقول چنیوٹ میں دو رفیق حضرت مولا بخش صاحب اور حضرت شیخ تاج محمود صاحب تھے۔والد صاحب کی ان سے ملاقات ہو گئی۔والد صاحب چارہ کاٹتے اکثر دعا کرتے کہ الہی امام مہدی کا ظہور ہو گیا ہے تو ان کو بھی دیکھنے کی سعادت عطا فرما لیکن قادیان جانے کی کوئی صورت نہ بنتی تھی۔آپ غالباً ان رفقاء میں سے کسی کی معرفت قادیان پہنچے اور