تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 226
تاریخ احمدیت 226 تھے کہ مغلا کافر ہو گیا ہے۔لیکن بعد میں پتہ لگا کہ ان کا لڑکا کافر ہو کر سچ بولنے لگ گیا ہے اور چوری بھی اس نے چھوڑ دی ہے۔چور چوریاں کرتے تھے اور پولیس اور دوسرے لوگ ان کا تعاقب کرتے تھے۔عدالتوں میں بات اور ہوتی ہے اور انسان وہاں جھوٹ بول کر گزارہ کر لیتا ہے لیکن برادری یا پنچایت میں یہ بات مشکل ہوتی ہے کہ کوئی اپنا قصور چھپا لے۔عدالتوں میں بتانے والے لوگ نہیں ہوتے ہیں اس لئے مجرم جو چاہے بیان دے دے۔لیکن برادری اور پنچایت میں وہ اگر جھوٹ بولے گا تو فوراً بعض واقف لوگ کھڑے ہو جائیں گے جو اس کا جھوٹ ظاہر کر دیں گے۔غرض جب چور چوریاں کر کے گھروں میں واپس آتے تو تعاقب کرنے والے بھی پہنچ جاتے۔اور کہتے تم نے ہمارا مال چرایا ہے لیکن وہ کہتے نہیں۔اور اکثر قرآن کریم بھی اٹھا لیتے۔لوگ چونی اٹھنی پر قسمیں کھا لیتے ہیں۔پھر بھینسیں یا گائے پر وہ قرآن کریم کیوں نہ اٹھاتے۔تعاقب کرنے والے چوروں کی قسموں پر اعتبار نہ کرتے اور کہتے لاؤ مغلے کو اگر وہ کہہ دے کہ تم نے مال چوری نہیں کیا تو ہم مان لیں گے۔وہ وہاں پہنچتے اور مغلے سے کہتے تم گواہی دو کہ ہم نے ان کا مال نہیں چرایا۔وہ کہتے میں کیسے کہوں کہ تم نے مال نہیں چرایا۔کیا تم فلاں مال چرا کر نہیں لائے۔ان کے بھائی کہتے کیا تم ہمارے بھائی ہو یا ان کے بھائی۔وہ کہتے اس میں کوئی شک نہیں کہ تم میرے بھائی ہو لیکن کیسے ہوسکتا ہے کہ میں جھوٹی گواہی دوں۔وہ انہیں مارتے پیٹتے اور سمجھتے کہ اب مارکھا کر اسے عقل آگئی ہوگی لیکن وہ دوبارہ یہی کہہ دیتے کہ تم نے چوری کی ہے۔میاں مغلا سنایا کرتے تھے کہ جب کوئی چوری کا معاملہ میرے سامنے آتا تو میں خیال کرتا کہ اگر سچ بولا تو میرے بھائی اور رشتہ دار مجھے ماریں گے اور اگر جھوٹ بولا تو گناہ گار ہو جاؤں گا۔اس لئے میں کہہ دیتا میں تو آپ کے نزدیک کافر ہوں۔پھر آپ میری گواہی کیوں لیتے ہیں۔وہ کہتے تم کافر تو ہو لیکن بولتے سچ ہو۔پھر میں کہتا میرا اس معاملہ سے کیا واسطہ۔لیکن وہ میرا پیچھا نہ چھوڑتے۔میرے بھائی اور رشتہ دار مجھے چٹکیاں جلد ۲۰