تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 218
تاریخ احمدیت 218 جلد ۲۰ اولاد سے دشمن بھی آہستہ آہستہ عزت کرنے لگے۔اور اللہ تعالیٰ کے محض فضل سے جب سے ہم نے ہوش سنبھالا اپنے گھرانے کو بڑا با عزت پایا۔۱۹۵۳ء کے فسادات میں حالات بڑے خراب تھے۔پورے گاؤں میں صرف تین گھرانے احمدیوں کے تھے۔یہاں بھی جتھے اور جلوس اردگرد کے گاؤں سے آتے تھے۔ایک خونخوار جلوس پر ملٹری ایکشن بھی ہوا۔تو ان ہی ایام میں چند مکار قسم کی عورتیں میری والدہ مرحومہ کے پاس آئیں۔اور کہنے لگیں کہ قیمتی قیمتی اشیاء آپ ہمارے گھر میں رکھوادیں۔جب حالات نارمل ہوں گے تو آپ واپس لے لینا۔میری والدہ مرحومہ نے انتہائی جرات سے کہا کہ ہماری قیمتی چیزیں ہاتھوں میں اسلحہ لے کر ہم لوگوں کی حفاظت کے لئے دن رات چھتوں پر بیٹھے پہرہ دے رہے ہیں۔جب یہ نہیں رہیں گے تو تم بھی آکر اپنا حصہ بانٹ لینا۔یہ عورتیں شرمندہ ہوکر چلی گئیں۔یہ عورتیں چونکہ گھر کے حالات کا جائزہ بھی لینے آئی ہوئی تھیں۔اتفاق سے اس وقت بچے خالی کارتوسوں سے کھیل رہے تھے۔جو تقریباً دو گھڑے پانی والے“ میں آتے تھے۔چونکہ والد صاحب مرحوم کو اپنے وقت میں شکار کا بہت شوق تھا۔اور خالی کارتوس بچے جمع کرتے رہتے تھے یہ سب دیکھ کر وہ عورتیں سمجھیں کہ ان کے گھر اسلحہ کے انبار ہیں۔گھر سے نکلتے ہی شور مچاتی ہوئی بھاگ گئیں اور کسی کو گھر کی طرف دیکھنے کی جرات نہ ہوئی۔۱۱۹ ا - قاضی مولانا محمد نذیر صاحب فاضل لائل پوری ( وفات ۱۵ ستمبر ۱۹۸۰ء) ۲ - قاضی محمد منیر صاحب ( وفات ۱۹ ستمبر ۱۹۸۵ء ) ۳ - قاضی عبدالحمید صاحب (وفات ۲۴ را پریل ۱۹۷۸ء) حضرت چوہدری بڑھے خان صاحب آف رجوعہ ضلع منڈی بہاؤالدین ولادت ۱۸۴۳ء۔بیعت ۱۹۰۳ ء۔وفات ۱۹۵۸ء) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰۳ء میں ایک مقدمہ کے سلسلہ میں جب جہلم