تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 219
تاریخ احمدیت 219 جلد ۲۰ تشریف لے گئے تو اس علاقہ کے لوگوں کو بھی احمدیت قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔پھر سلسلہ کے نامور عالم اور بزرگ حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب کے ذریعہ بھی ضلع گجرات میں کثرت سے لوگوں نے احمدیت کو قبول کیا اور جماعتوں کا قیام عمل میں آیا۔چنانچہ تحصیل پھالیہ کے ایک گاؤں رجوعہ اور اس کے ماحول کے نیک فطرت دیہاتیوں نے امام الزمان کو قبول کیا اب یہ گاؤں ضلع منڈی بہاؤالدین میں شامل ہے۔قبل ازیں ضلع گجرات میں شامل تھا۔مضمون نگار کے آباء و اجدا در جوعہ گاؤں میں سکونت پذیر رہے ہیں۔احمدیت کے قیام کی یہ داستان موصوف کی معلومات پر مبنی ہے۔مکرم چوہدری مرزا خاں صاحب سابق صدر جماعت احمد یہ رجوعہ نے بیان کیا کہ جوعہ تحصیل پھالیہ میں حضرت حکیم مرزا علی احمد صاحب امام الصلوۃ اس علاقہ کے مشہور حکیم بھی تھے وہ اپنے خطبات میں امام مہدی کی آمد کے متعلق قرآن و احادیث میں پائی جانے والی پیشگوئیاں بیان کیا کرتے تھے۔انہوں نے حضرت بانی جماعت احمدیہ کے دعویٰ مسیح موعود کے بارہ میں سنا تو قادیان جا کر بیعت کر لی۔بعد میں باقی چاروں بھائیوں نے بھی بیعت کر لی۔ان میں سے دو کے نام مرزا نور احمد اور مرزا سلطان احمد تھے۔۔۔۔۔جب ان کی بیعت کا علم لوگوں کو ہوا تو ان کی سخت مخالفت ہوئی۔مکرم چوہدری سکندر خاں صاحب راں کو حضرت حکیم مرزا علی احمد کے ذریعہ پیغام پہنچا تو وہ بھی قادیان گئے اور بیعت کر کے آئے تو ان کے دوسرے بھائی جنجر خاں صاحب، عمر دین صاحب، امام الدین صاحب اور فضل دین صاحب بھی احمدی ہو گئے۔مکرم غلام احمد صاحب راں موجودہ صدر جماعت احمد یہ ان کی اولاد میں سے ہیں۔ایک پوتے مکرم سردار خاں ولد خوشی محمد کی اولاد چک نمبر ۳۲ جنوبی ضلع سرگودھا میں آباد ہے۔حکیم برادران پڑے لکھے لوگ تھے مختلف شہروں میں جا کر آباد ہو گئے۔جب اس چھوٹے سے گاؤں میں دس خاندان حلقہ بگوش احمدیت ہوئے تو علاقہ بھر میں ایک شور برپا ہو گیا دعوت الی اللہ کا ماحول پیدا ہو گیا۔مخالف علماء نے ان نو احمدیوں کو ڈرانے دھمکانے کا رویہ اختیار کیا تا کہ یہ احمدیت سے منحرف ہو جائیں۔چنانچہ رجوعہ میں علماء کو بلایا گیا ان سے تقاریر کروائی گئیں آخر اس سلسلہ میں ایک مباحثہ کی طرح ڈالی گئی حضرت مولانا غلام رسول را جیکی صاحب اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: - سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حین حیات میں ایک دفعہ موضع رجوعہ تحصیل پھالیہ کے بعض احباب مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔جب