تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 217
تاریخ احمدیت 217 اس بنجر زمین کو بھی سرسبز فرمائے۔حضرت میاں جی کا ایک یادگار میرے لئے نایاب قلمی نسخہ پیارے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں بطور ہدیہ عرض خدمت ہے۔امید ہے حضور از راہ شفقت قبول فرمائیں گے۔جس سے حضور کو اندازہ کرنے میں مدد ملے گی کہ بے شمار گمنام احمدی ستاروں کی طرح یہ بزرگ بھی صرف علماء سے ہی نہیں بلکہ عیسائیت کی دجالی قوت سے ٹکرانے میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہوئے تھے۔حضرت میاں جی کو امام الزمان کے قدموں میں سعادت حاصل کرنے کے بعد طرح طرح کے ظلموں وستم اور بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔اس کے ساتھ ہی مصائب کا ایک لامتناہی سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔اپنا سگا بھائی ڈاکٹر عنایت اللہ جو صرف پہلی تنخواہ لے کر ہی آئے تھے کہ زہر دے کر کسی نے مار دیا۔والد جو گمشدگی میں ہی کہیں فوت ہو گئے۔جن کے بارے میں بتایا جاتا تھا کہ آپ نے بھی بذریعہ خط بیعت کر لی تھی۔(واللہ اعلم بالصواب) پہلی بیوی داغ مفارقت دے گئی اوپر نیچے تین جوان بچے گزر گئے۔مخالف جماعت جو بظاہر ہمدرد لگتے تھے اکثر حضرت میاں جی کو طنزاً حضرت مسیح الموعود المهدی موعود علیہ السلام کا قول بتایا کرتے تھے کہ کچھ مصائب اپنے گنا ہوں سے پیدا ہوتے ہیں۔اور آپ نے چونکہ نعوذ باللہ جھوٹے نبی کو مان لیا ہے اس لئے دنیا میں بھی اس کا اجر مل رہا ہے۔اس کے ساتھ تحریک شدی تحریک احراری ۵۳ء کے فسادات ، عزیزوں کے ظلم ، معاشی تنگی ، آپ نے ہر طرح کا زمانہ پایا۔مگر آپ ہمیشہ دعائیں بھی کرتے اور دوا بھی دیتے رہے۔کچھ نہ ہوا تو اپنے غیر از جماعت عزیزوں نے کھانے میں زہر ملا دیا۔تمام اہل خانہ سخت مشکل میں پڑ گئے۔اتفاقاً وہ سالن صرف میاں جی نے محض اس لئے نہ کھایا کہ آپ نفلی روزہ سے تھے۔بعد میں بفضل تعالیٰ حضرت میاں جی کی تیمار داری سے اور دعاؤں سے سب کی جان بچ گئی۔(الحمد للہ ) حضرت میاں جی کی خدمت خلق اور معاف کرنے کی عادت کی وجہ جلد ۲۰