تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 177 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 177

تاریخ احمدیت 177 کو کام میں لاکر اصلاح میں مدد دے سکیں۔میں نے بارہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس رنگ میں اپنی تحریرات کو پڑھتے دیکھا اور سنا ہے اور آپ اپنے مضامین کی نظر ثانی بھی ضرور فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ آپ کے مسودات کی عبارت کئی جگہ سے کئی ہوئی اور بدلی ہوئی نظر آتی تھی اور ایسا نہیں ہوتا تھا کہ بس جو لکھا گیا سولکھا گیا۔بلکہ آپ اس غرض سے اور نیز صحت کی غرض سے اپنی کتب کی کا پیاں اور پروف تک بھی خود ملا حظہ فرماتے تھے۔ملاحظہ مضمون شروع کرنے سے قبل نیت درست کرنے اور خدمت دین کے جذبہ کو اپنے دل میں جگہ دینے اور دعا کرنے کا میں نے یہ عظیم الشان فائدہ دیکھا ہے کہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ غیر معمولی رنگ میں نصرت فرماتا ہے۔مثال کے طور پر کہتا ہوں کہ ایک دفعہ جب میں نے اپنے ایک مضمون کی پہلی سطر ہی لکھی تھی تو یکلخت مجھ پر کشفی حالت طاری ہو گئی اور میں نے دیکھا کہ صفحہ کے آخری حصہ میں جو اس وقت خالی تھا ایک خاص عبارت لکھی ہوئی درج ہے اور مجھے توجہ دلائی گئی کہ اپنے اس مضمون کو اس عبارت کے مضمون کی طرف کھینچ لا۔چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا جس کی وجہ سے مضمون میں ایک نیا اور بہت دلکش رنگ پیدا ہو گیا۔بعض اوقات ایسا ہوا کہ میں نے مضمون کا ایک ڈھانچہ سوچ کر نوٹ کیا مگر بعض حصوں میں مضمون لکھتے لکھتے میرا قلم خود بخود ایک نئے رستہ پر پڑ گیا اور بالکل نئی باتیں ذہن میں آگئیں۔چنانچہ جو ڈھانچہ میں شروع میں سوچا کرتا ہوں عموماً اس کا نصف یا اس سے کچھ کم حصہ مضمون لکھتے ہوئے بہتر صورت میں بدل جایا کرتا ہے۔یہ سب دعا اور حسن نیت اور اللہ کے فضل کا ثمرہ ہے ورنہ من آنم کہ من دانم۔بایں ہمہ شروع کی تیاری بہت ضروری ہے کیونکہ یہ تیاری بھی نصرت الہی کی جاذب ہوا کرتی ہے۔“ میں یہ ہیں :- اس وقت جو مضمون زیادہ توجہ طلب نظر آتے ہیں وہ میرے خیال (۱) بین الاقوامی تعلقات کے متعلق اسلامی تعلیم (۲) بین الاقوامی مصالحت کی شرائط (۳) ملکی اور قومی معاہدات (۴) مذہبی رواداری جلد ۲۰