تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 176
تاریخ احمدیت افراد نے سلسلہ احمدیہ میں شمولیت کی۔۶۸ 176 جلد ۲۰ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے الفضل کے جلسہ سالانہ نمبر ۱۹۵۸ء میں ایک رؤیا کی بناء پر ایک قابل قدر آسمانی تحریک نوجوانانِ احمدیت کو تحقیقی مضامین کے لئے قلم اٹھانے اور علمی لٹریچر پیدا کرنے کی پر زور تحریک فرمائی اور اس سلسلہ میں متعدد تحقیقی مضامین کے عنوانات کی بھی نشاندہی کی۔چنانچہ آپ نے تحریر فرمایا کہ:- در تحقیقی مضمون لکھنے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ پہلے ایک موضوع کو جو کسی حقیقی حاضر الوقت ضرورت کے مطابق ہو چن کر اسے اپنے ذہن میں مستحضر رکھا جائے اور اس پر کچھ وقت تک غور کیا جائے۔پھر قرآن اور حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دوسرے بنیادی لٹریچر کا مطالعہ کر کے اس مضمون کے نوٹ لئے جائیں اور انہیں ترتیب اور مرتب کیا جائے۔پھر جو امکانی اعتراضات اس مضمون کے متعلق دوسروں کی طرف سے ہوئے ہوں یا ہو سکتے ہوں انہیں ذہن میں رکھ کر ان کا جواب سوچا جائے۔پھر ایک عمومی خاکہ اس امر کے متعلق اپنے دماغ میں قائم کیا جائے کہ اس مضمون کو کس طرح شروع کرنا ہے اور کس طرح چلانا اور کس طرح ختم کرنا ہے۔آغاز اس طرح ہونا چاہئے کہ مضمون پڑھنے والا اس کی نوعیت اور اہمیت کو محسوس کر کے اس کے لئے ذہنی طور پر تیار اور چوکس ہو جائے اور اختتام اس رنگ میں سوچا جائے کہ گویا چند تیر ہیں جو آخری ضرب کے طور پر پڑھنے والے کے دل میں پیوست کر نے مقصود ہیں۔اس کے بعد نوٹ سامنے رکھ کر دعا کرتے ہوئے مضمون شروع کیا جائے۔اور ہر ضروری اقتباس کے اختتام میں بریکٹوں کے اندر معین حوالہ درج کیا جائے تا اگر مضمون پڑھنے والا اس بارے میں مزید تحقیق کرنا چاہے تو از خود تحقیق کر کے تسلی کر سکے۔مضمون ختم کرنے کے بعد نظر ثانی بہت ضروری ہے۔اور نظر ثانی کے لئے بہترین طریق یہ ہے کہ اپنے مضمون کو علیحدگی میں اونچی آواز سے پڑھا جائے۔تا کہ آنکھوں کی فطری حس کے علاوہ کان بھی اپنی قدرتی موسیقی