تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 175 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 175

تاریخ احمدیت 175 جلد ۲۰ برادرانِ جماعت احمدیہ سیرالیون السلام عليكم و رحمة الله و بركاته دو میں نے سنا ہے کہ آپ کی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔احباب تو چاروں طرف سے آئیں گے ہی مگر خالی احباب کا جمع ہونا مفید نہیں ہوتا جب تک ان کے اندر للہیت اور اخلاص پیدا نہ ہو۔پس آپ لوگ اس کا انتظام کریں کہ مبلغین اور للہیت کے پیدا کرنے کی تلقین کریں اور جماعت جس جوش کے ساتھ آئے اس سے سینکڑوں گنا زیادہ جوش کے ساتھ واپس جائے تا کہ ملک کے چپہ چپہ میں احمدیت پھیل جائے۔آپ کا ملک بہت وسیع ہے ابھی اس میں اشاعت حق کی بہت ضرورت ہے۔جلدی اس طرف توجہ کریں اور ملک کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کریں تا کہ آپ لوگ اسلامی دنیا میں مفید عنصر ثابت ہو سکیں۔خالی سیرالیون اسلامی دنیا میں کوئی نقش نہیں چھوڑ سکتا ہے جب کہ پہلے وہ ایک عقیدہ پر قائم نہ ہو اور پھر باقی مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا کر ( دین حق ) کی خدمت کرے۔پس اس مقصد کو آپ کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور اس کے لئے جد و جہد کرتے رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔آمین۔والسلام خاکسارمرزا محموداحمد خلیفۃ المسیح الثانی یکم دسمبر ۱۹۵۸ء 66 حضور کا یہ روح پرور پیغام مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری امیر جماعت احمدیہ سیرالیون نے افتتاحی اجلاس میں پڑھ کر سنایا۔یہ کانفرنس احمد یہ سنٹرل مشن ہاؤس ”بو“ میں منعقد ہوئی۔سیرالیون کے مخلص احمدی ملک کے دور دراز علاقوں سے سفر کر کے جلسہ کی مقررہ تاریخوں سے کچھ روز قبل پہنچ گئے اور انہوں نے جلسہ گاہ کی تیاری اور دیگر انتظامات کی تکمیل میں بڑے شوق و اخلاص سے حصہ لیا۔جلسہ سے جن مقررین نے خطاب فرمایا ان میں مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری ، مولوی مبارک احمد صاحب ساقی ، الفا عباس دیفان، ملک غلام نبی صاحب شاہد، قریشی محمد افضل صاحب انچارج مشن فری ٹاؤن ، الحاج چیف قاسم کمانڈا، چیف ناصرالدین گا مانگا خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔جلسہ کے دوران ۲۹