تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 158 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 158

تاریخ احمدیت 158 منوانی ہے تو وہ خود اس کے لئے کوئی صورت پیدا کر دے گا مجھے اس پر زور دینے کی ضرورت نہیں۔لیکن نبی اپنا حق سمجھتا ہے کہ وہ وحی پر زور دے کیونکہ وہ یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس سے ایسے رنگ میں کلام کرتا ہے جس رنگ میں وہ کسی اور سے نہیں کرتا۔اس لئے کوئی شخص اگر میری بات نہیں مانے گا تو اس کو سزا ملے گی اور اسی وجہ سے وہ تحدی کرتا ہے لیکن دوسرا شخص ایسا نہیں کر سکتا۔پس جس شخص کو کوئی رؤیا یا کشف ہو اسے وہ کشف یا رویا اخبار میں چھپوانے کے لئے بھیج دینا چاہئے آگے الفضل والوں کا کام ہے کہ وہ اسے شائع کریں یا نہ کریں۔یہ بھی غلط طریق ہے کہ بعض لوگ مجھے کہہ دیتے ہیں کہ الفضل ہمارا مضمون شائع نہیں کرتا وہ بے شک نہ چھاپے تم چپ کر رہو کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں خدا تعالیٰ کا منشاء نہیں کہ وہ چھپے لیکن اس میں خود الفضل والوں کا اپنا فائدہ بھی ہے کیونکہ اس سے جماعت کے اندر ایک بیداری پیدا ہوتی ہے اگر کسی شخص کو کوئی رؤیا یا کشف یا الہام ہوتا ہے اور وہ شائع ہو جائے تو دوسروں کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم توجہ کریں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں بھی کوئی رؤیا یا کشف یا الہام ہو جائے گا۔اس طرح الفضل سلسلہ کی ایک خدمت کرے گا۔وہ جماعت کے اندر بیداری پیدا کرنے کا موجب ہو گا۔لیکن اگر وہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ خود گرفت کرے گا۔آپ لوگوں کا صرف اتنا کام ہے کہ آپ اسے اس طرف توجہ دلائیں لیکن اگر الفضل نہ چھاپے تو پھر اسے خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیں اور اصرار نہ کریں کہ الفضل ہماری خواب شائع کرے۔ایڈیٹر آزاد ہوتا ہے اس کی مرضی ہے کہ کوئی چیز شائع کرے یا نہ کرے۔اگر وہ اپنے فرائض کو ادا نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ خود اس سے سمجھ لے گا۔آپ اس پر داروغہ نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ تو قرآن کریم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی فرماتا ہے کہ تم ان لوگوں پر داروغہ نہیں ہو۔پھر تم داروغہ کہلانے والے کہاں سے آگئے۔بہر حال آپ انصار اللہ کے مقام کو قائم رکھنے کی کوشش کریں۔اور انصار اللہ کے معنی یہی ہیں کہ وہ روپیہ سے بھی دین کی خدمت کریں اور روحانی طور پر بھی دین کی خدمت کریں میں نے بتایا ہے کہ روحانی طور پر جلد ۲۰