تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 159 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 159

159 جلد ۲۰ تاریخ احمدیت دین کی خدمت یہی ہے کہ آپ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کریں اور اگر اس کی طرف سے بارش کا کوئی چھینٹا آپ پر بھی پڑ جائے تو ان چھینٹوں کو لوگوں تک بھی پہنچائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحی تو الگ رہی خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی ہر چیز کی قدر کرتے تھے۔ایک دفعہ بارش ہوئی تو آپ باہر نکل آئے اور اپنی زبان باہر نکال لی اس پر بارش کا ایک قطرہ گرا تو آپ نے فرمایا کہ یہ خدا تعالیٰ کی رحمت کا تازہ نشان ہے۔تو قرآن کریم تو الگ رہا آپ نے بارش کے ایک قطرہ کو بھی خدا تعالیٰ کا تازہ نشان قرار دیا ہے۔اب اگر کسی شخص پر خدا تعالیٰ کا اتنا فضل ہو جاتا ہے کہ اسے کوئی کشف ہو جاتا ہے یا کوئی الہام ہو جاتا ہے تو وہ تو یقینی طور پر خدا تعالیٰ کا تازہ نشان ہے پھر وہ تحدیث نعمت کیوں نہ کرے۔تحدیث نعمت بھی خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کا ایک طریق ہے۔دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ اب تحریک جدید کے نئے سال کے اعلان کا وقت آگیا ہے۔ہمارے ذمہ بہت بڑا کام ہے اور ہم نے تمام غیر ممالک میں بہوت الذکر بنانی ہیں اس وقت ہمارے ملک کی اینچ کی حالت پوری طرح مضبوط نہیں مگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ فضل کرتا رہا ہے اور ہمارے کام چلتے رہے ہیں کیونکہ ہماری باہر کی بعض جماعتیں مضبوط ہو گئی ہیں۔مثلاً افریقہ کی جماعتیں وغیرہ اور وہ پاکستان کے قوانین کے ماتحت نہیں۔اس لئے ان لوگوں نے بیوت الذکر کی خاطر جو جماعت کو پونڈ اور ڈالر دیئے ہیں ان سے کسی حد تک کام چلتا رہا ہے مگر وہ جماعتیں ابھی کم ہیں وہ زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتیں ان کا بوجھ بٹانے کا طریق یہی ہے کہ یہاں کا بوجھ یہاں کی جماعتیں اٹھا لیں۔اور ان کو اس بوجھ سے فارغ کر دیا جائے تا کہ وہ غیر ملکوں میں بیوت الذکر بنائیں امریکہ میں عام طور پر حبشی لوگ مسلمان ہیں اور حبشیوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کی سمجھ کم ہوتی ہے لیکن امریکہ میں ایک بیت الذکر بنی ہے جس کے لئے ایک حبشی مرد اور اس کی بیوی نے اپنا مکان اور جائیداد وقف کر دی تھی۔اور پھر انہوں نے کچھ اور روپیہ بھی دیا اس طرح کچھ چندہ دوسرے لوگوں نے بھی دیا۔بہر حال وہ "