تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 157 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 157

تاریخ احمدیت 157 انصار اللہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ جہاں تک ہو سکے آپ دین کی خدمت کی طرف توجہ کریں اور یہ توجہ مالی لحاظ سے بھی ہوتی ہے دینی لحاظ سے بھی ہوتی ہے دینی لحاظ سے بھی آپ لوگوں کا فرض ہے کہ عبادت میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں اور دین کا چرچہ زیادہ سے زیادہ کریں تا آپ کو دیکھ کر آپ کی اولادوں میں بھی نیکی پیدا ہو جائے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قرآن کریم میں یہی خوبی بیان کی گئی ہے کہ آپ اپنے اہل وعیال کو ہمیشہ نماز وغیرہ کی تلقین کرتے رہتے تھے۔یہی اصل خدمت آپ لوگوں کی ہے۔آپ خود بھی نماز اور ذکر الہی کی طرف توجہ کریں اور اپنی اولادوں کو بھی نماز اور الہی کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔جب تک جماعت میں یہ روح بیدار ہے اور لوگوں کے ساتھ خدا کے فرشتوں کا تعلق قائم رہے اور اپنے اپنے درجہ کے مطابق کلام الہی ان پر نازل ہوتا رہے اسی وقت تک جماعت زندہ رہتی ہے کیونکہ اس میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی آواز سن کر اسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور جب یہ چیز مٹ جاتی ہے اور لوگ خدا تعالیٰ سے بے تعلق ہو جاتے ہیں تو اس وقت قو میں بھی مرنے لگ جاتی ہیں۔پس آپ لوگوں کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اپنی اولادوں کو بھی ذکر الہی کی تلقین کرتے رہنا چاہئے۔اور اگر کوئی بشارت آپ پر نازل ہو تو ڈرنا نہیں چاہئے اسے اخبار میں اشاعت کے لئے بھیج دینا چاہئے۔اصل میں یہ تو انبیاء کا کام ہوتا ہے کہ وہ اپنی رؤیا وکشوف کو شائع کریں لیکن انبیاء اور غیر انبیاء میں یہ فرق ہوتا ہے کہ انبیاء میں تحدی پائی جاتی ہے اور غیر انبیاء میں تحدی نہیں پائی جاتی۔غیر انبیاء کے لئے یہی حکم ہے کہ وہ انکسار کے مقام کو قائم رکھیں اور بے شک خدا تعالیٰ کی تازہ وحی کی جو بارش ان پر نازل ہو اس کا لوگوں کے سامنے ذکر کریں لیکن لوگوں کو یہ نہ کہیں کہ تم ہماری بات ضرور مانو ہاں نبی کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں سے کہے کہ تم میری بات مانو نہیں تو تمہیں سزا ملے گی لیکن غیر نبی کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ ایمان کی زیادتی کے لئے خواب بیان کر دیتا ہے لیکن وہ کسی سے یہ نہیں کہتا کہ تم میری بات ضرور مانو وہ سمجھتا ہے کہ جب میں غیر نبی ہوں تو اگر خدا تعالیٰ نے میری بات کسی سے جلد ۲۰