تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 149
تاریخ احمدیت 149 جلد ۲۰ روز میں اتنا نہیں کر پاتے۔وقار عمل نماز عشاء کے بعد شروع ہوتا جو کسی وقفہ کے بغیر جاری رہتا اور نماز فجر تک لینٹر مکمل کر دیا جاتا۔اس طرح جماعت را ولپنڈی نے نہ صرف بیت الذکر کے اخراجات میں ہزاروں روپے کی بچت کی بلکہ مساوات اور ایثار و عمل کا ایسا شاندار نمونہ پیش کیا جس پر بیگانوں نے بھی خراج تحسین ادا کیا۔حصول ثواب میں مسابقت کا یہ جذبہ انتہائی ایمان افروز تھا اور مقامی اخبارات میں ان دنوں احباب جماعت کے اس بے مثال نمونہ کا خوب چرچا رہا۔ابتداء میں فیصلہ کیا گیا کہ اس کی عمارت پانچ منزلہ ہونی چاہئے لیکن چونکہ عمارت کے اوپر سے پی اے ایف کے جہاز پرواز کرتے تھے اور زیادہ بلند عمارت ان کی آمد و رفت میں رکاوٹ کا موجب بن سکتی تھی اس لئے یہ ارادہ ترک کر دیا گیا اور ایک نہ خانہ، ایک لائبریری ہال ایک ہال اور گیلری تعمیر کرنے کے بعد بقیہ کام مجبوراً روکنا پڑا۔اس طرح ڈیڑھ سال کے اندر جماعت را ولپنڈی کی شاندار بیت الذکر پایہ تکمیل کو پہنچ گئی جس کا نام بیت نور تجویز ہوا اور اس کی سنگ مرمر کی تختی صاحبزادہ حضرت مرزا مظفر احمد صاحب نے نصب فرمائی اور اب یہ جماعت احمد یہ راولپنڈی کی دینی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔رسالہ سونیئر کراچی کا اجراء اور اس کی مقبولیت اس سال جماعت احمد یہ کراچی کے جواں ہمت اور پر جوش نوجوانوں نے مقامی جماعت اور مربیان سلسلہ کے تعاون اور سر پرستی میں سوونیئر کے نام سے ایک نہایت دلکش معلومات افروز اور مصور رسالہ جاری کیا۔اس رسالہ سے جو اپنی نوعیت کا ایک منفر د رسالہ اور علم و معرفت کا مرقع تھا سلسلہ احمدیہ کے جرائد میں شاندار اضافہ ہوا۔یہ مجلہ نہایت درجہ اہتمام اور باقاعدگی کے ساتھ ۱۹۷۱ء تک شائع ہوتا رہا اور جماعت کے ہر حلقہ میں بہت مقبول ہوا۔ذیل میں عبدالرشید صاحب سماٹری نگران مجالس و ناظم اشاعت کراچی کے الفاظ میں اس یادگار رسالہ کے بارے میں بعض ضروری معلومات درج کی جاتی ہیں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ :۔" کراچی کے سوونیئر کی اشاعت کا پس منظر اور مقاصد درج ذیل ہیں : ا۔خدام کا علمی اور کھیل کے میدان میں سالانہ ترقی کا خاکہ پیش کرنا۔۲۔سالانہ اجتماع کے اخراجات کی تکمیل۔۳۔مسئلے مسائل سے بالاتر ہو کر جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی پر روشنی ڈالنا۔۴۔خاص طور پر بیرونی ممالک میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی ترقی اور اسلامی خدمات کو دنیا