تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 148
تاریخ احمدیت فصل سوم 148 جلد ۲۰ ۵۱ بیت نور را ولپنڈی کی تعمیر راولپنڈی شہر میں اب تک کوئی احمد یہ بیت الذکر نہیں تھی اور احباب جماعت مری روڈ پر واقع ایک دو منزلہ مکان میں نمازیں پڑھتے تھے۔٢ / مارچ ۱۹۵۳ء کو مشتعل ہجوم نے اس عمارت میں آگ لگا دی جس سے جماعت کی لائبریری حتی کہ قرآن مجید کے متعدد نسخے بھی جل گئے۔اس وقت پانچ احمدی اس میں موجود تھے جنہوں نے ملحقہ مکان پر چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی۔اس المناک واقعہ کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے یہاں تعمیر بیت الذکر کی ہدایت فرمائی۔چنانچہ جماعت احمد یہ راولپنڈی نے اپنے مقدس امام کے منشاء مبارک کی تعمیل میں اس کی زور شور سے تیاریاں شروع کر دیں۔بیت الذکر کا نقشہ جماعت کے ایک مخلص فرد چوہدری عبدالغنی صاحب رشدی نے نہایت محنت و عرقریزی سے تیار کیا۔میونسپل کارپوریشن راولپنڈی سے نقشہ منظور ہو چکا تو اس سال ۱۹۵۸ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر، صدر انجمن احمد یہ ربوہ نے حضرت مصلح موعود کے نمائندہ خاص کی حیثیت سے اپنے دست مبارک سے اس کا سنگ بنیاد رکھا اور خدا کے گھر کی تعمیر کا کام امیر جماعت راولپنڈی جناب میاں عطاء اللہ صاحب ایڈووکیٹ کی سرپرستی اور محترم رشدی صاحب کی ذاتی نگرانی میں شروع ہوا اور ڈیڑھ سال کے اندر پایۂ تکمیل تک پہنچ گیا۔اس عرصہ میں نمازوں اور اجتماعات کے متبادل انتظام کی ضرورت تھی جو میاں عطاء اللہ صاحب نے اپنے وسیع و کشادہ مکان میں اس خوش اسلوبی سے کر دیا کہ احباب جماعت کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔اپنے مکان کی پیشکش میاں صاحب نے خود ہی کی تھی اور انہوں نے اور ان کی بیگم صاحبہ نے اس خدمت کا حق ادا کر دیا۔۵۳ خدا کے گھر کی تعمیر کے لئے ہر اتوار کو وقار عمل منایا جاتا تھا۔راولپنڈی کے احمدی احباب نے اس کے مختلف تعمیراتی مراحل میں جس جوش و خروش، دینی ہمت اور جذبہ خدمت کا مظاہرہ کیا وہ یقیناً ایک قابل تحسین امر تھا۔راولپنڈی کا کوئی احمدی بچہ اور پیر و جوان نہیں تھا جس نے اس وقار عمل میں حصہ نہ لیا ہو۔جب بھی لینٹر ڈالنے کا موقع آتا سبھی مزدوروں کی طرح کام کرتے اور معمار کہتے تھے کہ احمدی احباب ایک دن میں اتنا زیادہ کام کر ڈالتے ہیں کہ ہم بقیہ چھ