تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 139 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 139

تاریخ احمدیت 139 وقت تک وقف جدید کے ذریعے ۱۴۰ بیعتیں ہو چکی ہیں۔لیکن میرے نزدیک فی مبلغ ایک ہزار سالانہ بیعت ہونی چاہئے آج کل وقف جدید میں ۷۰ آدمی کام کر رہے ہیں اگلے سال ممکن ہے کہ یہ تعداد ایک سو پچاس تک پہنچ جائے اور پھر ڈیڑھ دو لاکھ سالانہ صرف وقف جدید کے معلمین کے ذریعہ ہی بیعت ہونے لگے۔اگر ایسا ہو جائے تو پانچ سات سال میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری تعداد کئی گنے بڑھ سکتی ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ ہی سب کام کرنے والا ہے ہمارا کام تو صرف کوشش اور جد وجہد کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہا ماً فرمایا تھا کہ ” میں تیری تبلیغ کو زمین ۴۳ ،، - جلد ۲۰ کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔چنانچہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ زمین کے کناروں تک پہنچ چکی ہے۔مگر ہمیں صرف اس بات پر خوش نہیں ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ دنیا کے کناروں تک پہنچ چکی ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری جماعت کو اس قدر ترقی عطا فرمائے گا کہ دوسرے مذاہب کے پیرو اس جماعت کے مقابلہ میں ایسے ہی بے حیثیت ہو کر رہ جائیں گے جیسے آج کل کی ادنی اقوام بے حیثیت ہیں۔پس ہماری خواہش یہ ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ زمانہ بھی دکھا دے جب ہماری جماعت ساری دنیا پر غالب آجائے بلکہ اس سے بڑھ کر ہماری یہ دعا ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو غلبہ بھی عطا فرمائے اور دوستوں کو اپنے ایمانوں پر بھی قائم رکھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء کے زمانہ میں جب مسلمان ایمان پر قائم تھے روم اور ایران کے بادشاہ ان کے نام سے کا پنتے تھے مگر جب ان کے اندر ایمان نہ رہا تو ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا اور انہیں تباہ کر دیا اب بھی مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہیں مگر ادھر وہ امریکہ سے ڈر رہے ہیں اور ادھر روس سے خوف کھا رہے ہیں۔کبھی امریکہ سے کہتے ہیں کہ ہماری جھولی میں کچھ ڈالو اور کبھی روس کی طرف اس امید سے دیکھتے ہیں کہ شایدہ وہ ان کی جھولی میں کچھ ڈال دے حالانکہ ایک زمانہ میں مسلمان بڑی سے بڑی لالچ کو بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا۔روم کی جنگ پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو تین صحابہ غلطی سے پیچھے رہ گئے۔آپ نے واپس آنے پر ان تینوں کو مقاطعہ کی سزا دے دی۔ان میں سے ایک صحابی کہتے ہیں کہ جب مقاطعہ لمبا ہو گیا تو میں تنگ آ گیا۔میرا ایک بڑا گہرا دوست تھا اور بھائیوں کی طرح مجھے پیارا