تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 140
تاریخ احمدیت 140 جلد ۲۰ تھا۔وہ اپنے باغ میں کام کر رہا تھا کہ میں اس کے پاس پہنچا اور میں نے کہا بھائی تم جانتے ہو کہ میں منافق نہیں میں سچا اور مخلص مسلمان ہوں۔صرف غلطی کی وجہ سے جنگ سے پیچھے رہ گیا تھا مگر وہ بولا نہیں اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں۔وہ کہتے ہیں مجھے اس سے شدید صدمہ پہنچا اور میں باغ سے نکل کر شہر کی طرف چل پڑا۔میں گھر کی طرف جا ہی رہا تھا کہ مجھے پیچھے سے ایک شخص نے آواز دی میں ٹھہرا تو اس نے مجھے عرب کے ایک بادشاہ کا خط دیا اس میں لکھا تھا کہ ہم نے سنا ہے محمد رسول اللہ نے تم پر بڑا ظلم کیا ہے۔تم ہمارے پاس آ جاؤ ہم تمہاری بڑی عزت کریں گے۔وہ صحابی کہتے ہیں کہ میں نے پیغام بر کو کہا کہ تم میرے ساتھ چلو میں ابھی اس کا جواب دیتا ہوں وہ میرے ساتھ ساتھ چلا رستہ میں میں نے دیکھا کہ ایک جگہ تنور جل رہا ہے میں اس کے قریب پہنچا اور خط اس کے سامنے اس تنور میں ڈال دیا اور پھر میں نے اسے کہا کہ جاؤ اور اپنے بادشاہ سے کہہ دو کہ یہ تمہارے خط کا جواب ہے۔تو دیکھو اسے کتنی بڑی لالچ دی گئی تھی مگر اس نے کچھ بھی پرواہ نہ کی اور بادشاہ کے خط کو آگ میں جھونک دیا مگر آج مسلمان ہر جگہ بھیک مانگتا پھرتا ہے اگر اس کے اندر سچا ایمان ہوتا تو وہ نہ امریکہ کی طرف دیکھتا اور نہ روس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا تا بلکہ خود پیشہ پیشہ جمع کر کے اپنی تمام ضروریات کو خود پورا کرنے کی کوشش کرتا مگر یہ جذبہ قوم میں اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب اس کے افراد اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھیں اور موت کا ڈراپنے دل سے نکال دیں۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ مدینہ کے قریب پہنچ کر آپ دو پہر کے وقت آرام فرمانے کے لئے ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے اور صحابہ بھی ادھر ادھر منتشر ہو گئے کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ اب تو مدینہ قریب ہی آگیا ہے اب کسی دشمن کے حملے کا کیا خطرہ ہو سکتا ہے اتفاقاً ایک شخص جس کا بھائی کسی جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ مارا گیا تھا اپنے بھائی کا انتقام لینے کے لئے اسلامی لشکر کے پیچھے پیچھے چلا آ رہا تھا اور حملہ کے لئے کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھا۔اس نے جب دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے ہیں اور صحابہ بھی ادھر ادھر چلے گئے ہیں تو اس نے آپ کے پاس پہنچ کر آپ ہی کی تلوار اٹھا لی جو درخت کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی اور پھر اس نے آپ کو جگایا اور کہا کہ بتا ئیں اب آپ کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح لیٹے لیٹے نہایت اطمینان اور سکوت کے ساتھ فرمایا کہ اللہ۔آپ کا یہ فرمانا تھا کہ اس کا جسم کانپا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی آپ نے فوراً وہی تلوار لی اور پھر اس سے پوچھا کہ اب تجھے میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے اس نے کہا آپ ہی مہربانی کریں اور