تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 138
تاریخ احمدیت 138 جلد ۲۰ اس تعلق میں حضور نے ۱۸ اور ۲۲ / اگست ۱۹۵۸ء کو دو خطبات جمعہ دیئے جن کے بعض اہم اقتباسات درج ذیل ہیں:۔۱۔خطبہ ۱۸ /اگست ۱۹۵۸ء ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ وہ اسلامی ترقی کے لئے اپنا پورا زور لگا دیں۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا وقت آ گیا ہے جیسے ڈال پر آدم پک جاتے ہیں اور ہر آم آپ ہی آپ ٹوٹ کر نیچے گرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔اب عیسائی دنیا ( دینِ حق ) قبول کرنے کے لئے بالکل تیار ہے۔صرف درختوں کی ٹہنیاں ہلانے کی ضرورت ہے۔جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے مریم سے کہا کہ کھجور کے تنے کو ہلا تجھ پر تازہ بتازہ کھجور میں گریں گی اسی طرح ہمیں بھی اب صرف تنہ ہلانے کی ضرورت ہے ور نہ پھل پک چکا ہے اور اب وہ گرنے ہی والا ہے۔لطیفہ مشہور ہے کہ ایک دہر یہ باغ میں گیا تو کہنے لگا لوگ تو خدا تعالیٰ کو بڑا عقلمند کہتے ہیں مگر یہ کیسی عقلمندی ہے کہ اس نے ایک پتلی سی بیل کے ساتھ تو اتنا بڑا کرو لگا دیا اور بڑے بڑے مضبوط درختوں پر چھوٹے چھوٹے آم لگا دیئے۔تھوڑی دیر کے بعد اسے نیند آئی اور وہ وہیں ایک آم کے درخت کے نیچے سو گیا۔سویا ہوا تھا کہ اچانک اس کے سر پر بڑے زور سے ایک آم آگرا وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا اور کہنے لگا اللہ میاں میری تو بہ میں اپنی گستاخی کی تجھ سے معافی طلب کرتا ہوں میں سمجھ گیا کہ جو کچھ تو نے کیا ہے بالکل درست ہے۔اگر اتنی دور سے کرو مجھ پر گرتا تو میری جان نکل جاتی۔اسی طرح یورپ بھی اب ٹپکنے کو تیار بیٹھا ہے ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ جماعت قربانی کرے۔کچھ چندوں میں زیادتی کرے اور کچھ نوجوان اپنے آپ کو وقف کریں۔بے شک وقف جدید کے ماتحت بہت سے نو جوانوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے مگر ابھی تک میں ان کے کام سے پوری طرح خوش نہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کو کام شروع کئے بھی پانچ چھ مہینے ہی ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ابھی ان کے کام میں تیزی پیدا ا نہیں ہوئی۔اگر ایک دو سال گزر جائیں تو پھر ان کا صحیح اندازہ ہو سکے گا۔اس