تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 137
تاریخ احمدیت 137 جلد ۲۰ حضرت مسیح موعود کی خدمت کی بہت خواہش رہتی تھی۔مجھے یاد ہے زیادہ بے تکلف نہ تھیں مگر وضو فرمانے لگتے تو لوٹا اٹھا کر پانی ڈالنے لگتیں۔غرض اسی طرح چاہتی تھیں کہ کوئی کام کروں گورداسپور میں جب حضرت مسیح موعود عدالت میں تشریف لے جاتے تو میرے ساتھ ٹوکرا لگا کر مینا چڑیاں پکڑا کرتی تھیں۔بہت ہی ذوق شوق سے کہ واپس آئیں گے تو آپ کے لئے شکار کا گوشت تیار رکھیں گے۔حضرت اقدس بھی بہت شفقت فرماتے تھے ایک بار یونہی کسی نے بات اڑا دی تھی کہ میاں (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) دوسری شادی کریں گے تو حضرت مسیح موعود نے سن کر بہت پیار سے بھابی جان کو دلاسا دیا اور فرمایا کہ ” میری زندگی میں تم کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔اس وقت مغرب کا وقت تھا اور آپ وضو کر رہے تھے اسی صحن میں تھے جو اب دار ا مسیح قادیان میں ام ناصر کا صحن کہلاتا ہے۔وہ بات پوری ہوئی۔شادیاں مقدر تھیں ہو کر رہیں مگر مقدرتھیں حضرت اقدس کی زندگی میں یہ تکلیف بھابی جان کو نہیں پہنچی۔دعاؤں میں بے حد شغف تھا۔بہت دعائیں کرنے والی تھیں۔جب میرا پہلا بھتیجا نصیر احمد فوت ہو گیا اور پھر بچہ کافی عرصہ تک نہ ہوا تو چونکہ اب سمجھ اور فکر کا زمانہ آ گیا تھا تو انہوں نے اولاد کے لئے بے حد دعائیں کیں۔ایک بار ایک بات سے رنج پہنچا تو مجھے خود بتایا کہ میں نے تمام شب قریباً رو رو کر خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں اور اسی ماہ میں ناصر احمد کی پیدائش کے آثار ظاہر ہو گئے۔پھر خدا کے فضل سے اوپر تلے اللہ تعالیٰ نے بیٹے بھی دیئے اور بیٹیاں بھی۔مبارک زندگی تھی مبارک انجام ہوا۔اللہ تعالیٰ جنت اعلیٰ میں اعلیٰ سے اعلیٰ درجات عطا فرمائے۔احباب سے التجا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی صحت اور زندگی کے لئے خصوصیت سے بے حد دعائیں کریں۔مجھے فکر ہے خواہ کتنا بھی اعلیٰ درجہ کا صبر ان کو خدا تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے پھر بھی بشریت کا تقاضا ہے کہ اتنے پرانے رفیق کا جدا ہو جانا دل پر اثر انداز ہو۔خدا کرے ان کی صحت کو دھچکا نہ لگے۔فقط ( مبارکہ ۴۲ سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے اس اشاعت دین کے فریضہ پر خصوصی خطبات جمعه سال جماعت احمدیہ کو فریضہ تبلیغ کی طرف خصوصی توجہ دلائی اور ہدایت فرمائی کہ دلائل کے ساتھ ( دینِ حق ) کو دنیا میں غالب کرنے کی ذمہ داری جماعت احمدیہ پر ہے۔اس عظیم الشان کام کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھو اور اس کے لئے صحیح کوشش اور جد و جہد کرتے رہو۔