تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 136
تاریخ احمدیت 136 جلد ۲۰ ہو مجھے خدا کے فضل سے اکثر بہت بچپن کی باتیں یاد رہ گئی ہیں خواہ سن وغیرہ یا تفصیل میں کبھی غلطی ہے بھابی جان پہلی بار بیا ہی آکر صرف دو تین دن ہمارے گھر رہیں چونکہ کم عمر تھیں اور ان کو جلد میکے بھیج دیا گیا تھا اور پھر سال بھر کے بعد ذرا اور بڑی ہو جانے پر دوبارہ رخصت ہو کر آگئیں اور پھر گویا مستقل یہاں رہیں۔ملنے پر کبھی کبھار چلی جاتی تھیں۔۱۹۰۴ء میں گورداسپور کے سفر میں وہ ہمارے ساتھ تھیں اور اتنی دیر کی شادی شدہ تھیں کہ کافی بے تکلف تھیں۔انہوں نے شادی کے بعد اس گھر کو اپنا گھر اور ہم لوگوں کو اپنے بہن بھائی سمجھا۔ایک گھڑی کو بھی محبت کے بغیر ان کا سلوک یاد نہیں۔نہایت پیار سے ہم لوگ رہے۔میں بہت چھوٹی تھی ضرور ستاتی بھی ہوں گی مگر ان کی شفقت میں کمی نہ آتی دیکھی۔کبھی تیور پر بل نہ آتا تھا۔ان کی سعید فطرت اور اس پر حضرت سیدنا بڑے بھائی صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) کی تربیت ، گھر کا مبارک ماحول نیک نمونہ تھا۔جو سونے پر سہا گہ ہو گیا تھا۔لوگ کہتے ہیں کہ دو برتن بھی ایک جگہ ہوتے ہیں تو کھٹک جاتے ہیں مگر ہم تو ایک بار بھی نہ کھٹکے تھے۔مجھ سے جو محبت تھی وہ آخر دم تک نبھائی۔ہمارے بچوں کے آپس میں رشتے ہوئے ایسے میں سو باتیں قدرتا ہو جاتی ہیں بدمزگی کی۔اور ہوسکتی تھیں۔مگر ہمارے ذاتی تعلقات پر کوئی اثر کبھی نہ پڑا۔نہ انہوں نے نہ میں وو نے ان رشتوں کو پہلے رشتے کے درمیان کبھی بھی حائل ہونے دیا۔حضرت اماں جان۔۔۔کے بعد بھی محبت و شفقت خصوصیت سے ان کی جانب سے حاصل رہی۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔حضرت مسیح موعود سے بہت اور حضرت اماں جان سے بھی خاص تعلق تھا۔بچپن تھا مگر فطرتی شرم اور جھجک کی وجہ سے ان کے سامنے خاموش ہی رہتی تھیں۔زیادہ تر بہت کم اس زمانہ میں بات کرتے بڑوں سے میں نے ان کو دیکھا۔اکثر وقت اپنے کمرے میں گزارتی تھیں۔اکثر شام کو باہر آنا تو مؤدب ہو کر بیٹھنا اور حضرت مسیح موعود کے سامنے بھی دوپٹہ بہت لپیٹ کر اوڑھے رکھنا ان کا طریق تھا۔جسے پنجابی میں دوہری بکل“ کہتے ہیں۔اب لڑکیوں نے شاید یہ طریق دیکھا بھی نہ ہو۔اسی صورت میں دو پٹہ اوڑھ کر صحن میں نکلتی تھیں۔یہ ایک طرح کا گھر کا پردہ ہی ہوتا ہے۔حالانکہ اس وقت شروع میں پردہ والا کوئی گھر میں خاص نہ ہوتا تھا۔بڑے ماموں جان اکثر باہر اور چھوٹے ماموں جان اور دوسرے میرے بھائی تو ابھی چھوٹے لڑکے سے تھے مگر انہوں نے ہمیشہ بہت لحاظ اور شرم کا طریق یکساں ملحوظ رکھا۔کبھی میں نے ان کو لڑکوں سے بات کرتے نہیں دیکھا۔مجھے بے شک ہر وقت یعنی جتنا بھی وقت مل سکتا اپنے پاس رکھنے کی کوشش کرتی تھیں۔لحاظ شرم و حیا اور صبر و رضا ان کی خصوصیات میں سے تھے۔