تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 118
تاریخ احمدیت 118 جلد ۲۰ گیا کہ پر چہ احمدیوں ( قادیانیوں) کا ہے اور مقام لاگوس سے ہر ہفتہ شائع ہوتا رہتا ہے۔خود یہ لاگوس ہے کہاں؟ کس ملک بلکہ کس براعظم میں؟ اپنی جغرافیہ دانی جواب دیتی معلوم ہوئی۔خاصے غور اور تامل کے بعد خیال آیا کہ یہ تو کہیں مغربی افریقہ کے کسی برطانوی علاقے میں واقع ہے۔دنیا کے ایک دور افتادہ گوشے میں ہندوستان اور پاکستان دونوں سے ڈیڑھ دو ہزار میل کے فاصلے پر جہاں تک رسائی بھی آسان نہیں۔پھر ایک انسائیکلو پیڈیا کو کھول کر دیکھا تو اس میں یہ ملا کہ لاگوس کی آب و ہوا بھی بہت خراب ہے۔اور یہاں شہری تمدن کے ذرائع رسل و رسائل بھی دشوار ہیں۔قادیانیوں کے عقائد کو چھوڑئیے۔ان کی یہ ہمت، تنظیم، سرگرمی، انہماک تبلیغ بھی ہمارے لئے سبق آموز اور رشک انگیز نہیں؟“ حضرت مصلح موعود کا پیغام انڈونیشیا ۱۹۴۹ء سے جماعت احمد یہ انڈونیشیا کی سالانہ کانفرنس با قاعدگی سے منعقد ہو رہی تھی۔اس سال کی احمدی جماعتوں کے نام یہ کانفرنس گاروت شہر میں ۱۸ تا ۲۰ جولائی ۱۹۵۸ء / کو منعقد ہوئی۔جس کے لئے حضرت مصلح موعود نے حسب ذیل روح پرور پیغام دیا:- مری ۱۶ جولائی ۱۹۵۸ ء۔میں انڈونیشیاء کے احمدی مردوں اور وو عورتوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور ان کی کانفرنس کی کامیابی کے لئے دعا کرتا ہوں۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اپنی تبلیغی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا نہیں کیا ورنہ اس وقت تک جماعت کے افراد کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز ہو چکی ہوتی۔میں امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے طریقہ کار میں اصلاح کرتے ہوئے اپنے آپ کو خدائے تعالیٰ اور مخلوق کے بچے خادم ثابت کریں گے۔خدا تعالیٰ آپ کے ملک کو برکت دے اور ہمیشہ صحیح راستے کی طرف اس کی رہنمائی فرماتا رہے۔“ (خلیفة المسیح الثانی) حضور کا یہ برقی پیغام کا نفرنس کے دوسرے روز ۱۹ جولائی کے پہلے اجلاس کے دوران