تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 117 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 117

تاریخ احمدیت 117 جلد ۲۰ پاکیزگی اور صفائی کو روحانیت کے بعد ثانوی حیثیت حاصل ہے۔“ (سعود احمد کماسی مغربی افریقہ ) برصغیر کے نامور فاضل و ادیب مولانا عبدالماجد صاحب دریا بادی نے اخبار ”صدقِ جدید میں اس واقعہ پر حسب ذیل نوٹ سپر د قلم فرمایا : ایک دفاعی خدمت : - گھانا مغربی افریقہ کا ایک ہفتہ وار گنی ٹائمز (GUINA TIMES) ہے اس کا ۷ مارچ ۱۹۵۸ء کا ایک تراشہ ڈاک سے موصول ہوا ہے جس میں پرچہ کے خصوصی مقالہ نگار جو بین فورڈ کا ایک بیہودہ سا شذرہ اس مضمون کا درج ہے کہ اسلام کی خوبیاں اپنی جگہ مسلم و قابل داد ہیں لیکن اس میں یہ کیا گندہ اور گھناؤنا طریقہ آبدست لینے کا بجائے کاغذ کے پانی سے رکھا گیا ہے!۔لیکن اس تکلیف دہ شذرہ کا جواب بھی دل کو یہ دیکھ کر کیسی خوشی ہوئی کہ پہلے ہی ہفتہ ۱۴؍ مارچ کے پرچے میں نکل گیا کہ اس اسلامی تعلیم میں گندگی کا کوئی ذرا سا پہلو نہیں بلکہ فلاں فلاں ڈاکٹروں کی مستند طبی کتاب "TROPICAL HYGENE" میں فلاں عبارت موجود ہے جس میں صراحت سے پانی کو بجائے کاغذ کے پسند کیا گیا ہے۔یہ شانی مدلل جواب ایک احمدی ( قادیانی ) سعود احمد (وائس پرنسپل احمد یہ کالج کماسی) کے قلم سے ہے۔اس جماعت کو اسلام سے خارج کرتے وقت آخر اس کی ان ساری خدمات کو کیسے نظر انداز کر دیا جائے۔عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو بھی تو ایک حکیمانہ عادلانہ ہی قول ہے۔66 مولانا عبدالماجد صاحب نے اس کے بعد اسی اخبار کی ۱۹ رستمبر ۱۹۵۸ء کی اشاعت میں صفحه ۳ و ۵ میں سبق آموز کے زیر عنوان تحریر فرمایا : - پچھلے ہفتہ ڈاک سے ایک پیکٹ موصول ہوا جس کے اندر۔” 66 ނ ۶ پرچے ایک انگریزی جو ہفتہ وار دی ٹروتھ (TRUTH) کے برآمد ہوئے۔پرچے کی پہلی جھلک کچھ اسلامی رنگ کی نظر آئی۔حیرت ہوئی کہ یہ انگریزی پر چہ مسلمانوں میں نکالنے والا کون اور کہاں کا ہے؟ دوسرے ہی لمحہ معلوم ہو